روس سے تیل کی خریداری :بھارت پر100فیصد ٹیرف عائد، امریکی سینیٹ میں تاریخی بل پیش

واشنگٹن / نئی دہلی: امریکی سینیٹرز کے ایک دو طرفہ (بائی پارٹیسن) گروپ نے بھارت پر ٹریف کا ترمیمی بل پیش کر دیا ہے،۔

جس کے تحت روس سے خام تیل خریدنے والے ممالک، بالخصوص بھارت اور چین پر 100 فیصد تک کے بھاری تجارتی ٹیرف (محصولات) عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اہم بل کی مکمل حمایت کی ہے، جس کا بنیادی مقصد روس کی جنگی معیشت کی فنڈنگ کو روکنا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:شرپسندوں کیلئے فالتو ٹائم نہیں،سیدقمر رضا پروپیگنڈا پھیلانے پر کالعدم ایکشن کمیٹی پر برس پڑے

پہلے پیش کیے گئے ابتدائی مسودے میں روس سے توانائی خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد یکساں ٹیرف لگانے کی انتہائی سخت تجویز دی گئی تھی۔

تاہم، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر قانون سازوں کے درمیان طویل مشاورت کے بعد نئے مسودے میں اس سزا کو کم کر کے زیادہ سے زیادہ 100 فیصد کر دیا گیا ہے، جسے بھارت اور چین کے لیے ایک عارضی ریلیف بھی دیکھا جا رہا ہے۔

اس بل کے تحت روس سے بڑے پیمانے پر تیل خریدنے والے پانچ ممالک براہِ راست متاثر ہوں گے، جن میں بھارت، چین، سلوواکیہ، ہنگری اور آذربائیجان شامل ہیں۔

بل پاس ہونے کی صورت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ قانونی اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ ان ممالک کی مصنوعات پر 100 فیصد تک ٹیرف لگا سکیں۔

تاہم، اگر وہ اسے امریکی قومی مفاد میں بہتر سمجھیں تو کسی ملک کو اس سے استثنیٰ (Waiver) دینے کے بھی مجاز ہوں گے۔

گیس خریدنے والے 15 یورپی ممالک کو اس قانون سے اس لیے مستثنیٰ رکھا گیا ہے کیونکہ وہ روس پر اپنا انحصار بتدریج کم کر رہے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر: نئی سیاسی پیشرفت، مذہبی شخصیت پیر محسن حیدر گیلانی سردار تنویر الیا س کے قافلے میں شامل

اس بل کے منظرِ عام پر آتے ہی نئی دہلی کے سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ بھارت کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت، کانگریس نے اس معاملے پر مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا

وزیرِ تجارت پیوش گوئل سے فوری وضاحت طلب کی ہے کہ اس سفارتی اور اقتصادی خطرے پر بھارت کا کیا موقف ہے۔

یوکرین جنگ کے بعد سے بھارت، روس سے انتہائی سستے داموں خام تیل خریدنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک بن چکا ہے۔ اگر یہ بل امریکی کانگریس سے پاس ہو کر قانون بن جاتا ہے، تو بھارت اور امریکہ کے درمیان باہمی تجارت اور اسٹریٹجک تعلقات کو شدید جھٹکا لگ سکتا ہے۔

سینیٹرز کے مطابق، یہ بل صرف ایک ٹیرف بل نہیں ، بلکہ یہ روسی بینکوں، شیڈو فلیٹ ٹینکرز اور پیوٹن کی مالیاتی شہ رگ پر وار کرنے کا ایک مکمل معاشی ہتھیار ہے۔