شرپسندوں کیلئے فالتو ٹائم نہیں،قمررضا پروپیگنڈا پھیلانے پرکالعدم ایکشن کمیٹی پر برس پڑے

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن کے چیئرمین سید قمر رضا شاہ نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے سوشل میڈیا پر پھیلائے جانیوالے ایک اور گمراہ کن بیانیے کی سخت الفاظ میں تردید کر دی۔

اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن کے چیئرمین سید قمر رضا نے واضح کیا ہے کہ فیلڈ مارشل سے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے معاملے پر کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیرالیکشن:جماعت اسلامی کے 36امیدوار میدان میں آگئے

قمر رضا نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے دعووں کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا،فیلڈ مارشل نے نہ تو مجھے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے کسی قسم کے رابطے کیلئے کہا ہے اور نہ ہی ریاست کے اعلیٰ ترین عسکری و سول عہدیداروں کا ان عناصر سے کوئی تعلق ہے۔

سید قمر رضا نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ فیلڈ مارشل کے پاس ان شرپسندوں کیلئے کوئی فالتو ٹائم نہیں ہے جو کشمیر کا امن خراب کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت یا اسکے کسی ادارے کی طرف سے کالعدم جائینٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور نہ ہی ان سے کوئی وعدہ کیا گیا ہے۔۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ قمر رضا نامی شخص کے ذریعہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایکشن کمیٹی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا نہ کوئی یقین دہانی کرائی ہے ۔۔

البتہ پیپلز پارٹی کی قیادت کا دعویٰ ہے کہ وہ حکومت اور ایکشن کمیٹی میں بات چیت کرانے کی کوشش کررہی ہے لیکن ابھی کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا

سیاسی مبصرین کے مطابق، عوامی حمایت کھو دینے اور لانگ مارچ کی عبرت ناک ناکامی کے بعد کالعدم ایکشن کمیٹی کی قیادت اب خود ساختہ کہانیاں گھڑ رہی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی وادی میں انتشار پھیلانے کی آخری کوشش ناکام، لانگ مارچ ملتوی

تنظیم کے ہمدرد انٹرنیٹ پر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ریاست ان کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات کر رہی ہے تاکہ وہ اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا دے سکیں۔

قمر رضا کے اس بیان کے بعد یہ بات مزید واضح ہو گئی کہ ریاست ان انتشار پسند عناصر کو کوئی رعایت دینے کے موڈ میں نہیں اور عوام نے بھی ان کی ہڑتالوں کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔

قمر رضا نے کشمیری عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسے کسی بھی جھوٹے پروپیگنڈے اور واٹس ایپ افواہوں پر کان نہ دھریں کیونکہ خطے میں امن و امان برقرار رکھنا اور قانون کی بالادستی قائم کرنا ریاستی اداروں کی اولین ترجیح ہے۔