امریکی فوج نے ایران کے خلاف حملوں کی دوسری لہر شروع کر دی ہے جس کے بعد ایران کے کئی شہر دھماکوں سے گونج اٹھے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق یہ حملے ایرانی فوجی صلاحیتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جنہیں آبنائے ہرمز سے آزادانہ طور پر گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کی جانب سے امریکی فوجیوں کے فون کی ٹریکنگ،برطانوی اخبار کا بڑا انکشاف
سینٹ کام نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے۔
ادھرایران کی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کے شہر چابہار میں3 دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
اس سے قبل ایرانی میڈیا نے بتایا تھا کہ امریکی میزائلوں نے چابہار میں ایک بحری نگرانی کے ٹاور کو نشانہ بنایا۔
یہ ٹاور ایک سویلین تنصیب ہے، جسے سمندری سکیورٹی اور ماہی گیروں کی تلاش و بچاؤ کی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ایران کی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق عراق کی سرحد کے قریب واقع شہر اہواز میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اپنی سرزمین کے ایک ایک انچ کا دفاع کرینگے ،ایرانی صدر کا ٹرمپ کو ردعمل
رپورٹ کے مطابق اس ماہ کشیدگی دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے اہواز کو امریکی افواج کی جانب سے متعدد بار نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
علاوہ ازیں ایران کے شہر بندر عباس میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی میزائلوں نے شہر کے قریب ایک مقام کو نشانہ بنایا ہے۔




