نئی دہلی: بھارت کی ریاست تامل ناڈو میں واقع ملک کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ کوڈن کولم (Kudankulam) کا انتہائی حساس ڈیٹا سائبر حملے کے نتیجے میں چوری ہو کر ڈارک ویب پر اپ لوڈ کردیا گیا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک بدنام زمانہ رینسم ویئر (تاوان مانگنے والے) ہیکر گروپ نے پاور پلانٹ سے متعلق 19,000 سے زائد خفیہ فائلیں انٹرنیٹ پر عام کر دی ہیں، جس سے اس کی سکیورٹی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
سائبر سکیورٹی پر نظر رکھنے والے ماہرین اور خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، یہ ڈیٹا ‘ورلڈ لیکس’ (World Leaks) نامی ہیکر گروپ نے جاری کیا ہے
چوری ہونے والی دستاویزات میں پاور پلانٹ کے وینٹیلیشن، کولنگ سسٹم کے انجینئرنگ بلیو پرنٹس (نقشے) اور کنٹرول روم کے فلور لے آؤٹس شامل ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بھارت کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ کا انتہائی حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر لیک، سیکیورٹی پر بڑا سوالیہ نشان
ٹھیکیداروں اور سپلائرز کی معلومات: لِیک ہونے والے ڈیٹا میں پلانٹ کو سامان فراہم کرنے والے سپلائرز کی تفصیلات، آلات کی جانچ پڑتال (Inspection) کی رپورٹس، انشورنس پالیسیاں اور اجلاسوں کا ریکارڈ موجود ہے۔
یہ فائلیں بنیادی طور پر پلانٹ کے زیرِ تعمیر یونٹ 3 اور یونٹ 4 سے متعلق ہیں، جنہیں 2027 تک فعال ہونا ہے۔ تاہم، ان میں روس کی کمپنی ‘روس اٹم’ کی جانب سے فراہم کردہ نیوکلیئر ری ایکٹر کے مرکزی نظام (Core Systems) کے ڈیزائن شامل نہیں ہیں۔
روائٹر کے مطابق رپورٹ کے مطابق یہ سائبر حملہ براہِ راست نیوکلیئر پاور پلانٹ کے نیٹ ورک پر نہیں ہوا، بلکہ پلانٹ کے بڑے کنٹریکٹر ریلائنس گروپ (Reliance Group) کے ڈیٹا سرور پر کیا گیا۔ ریلائنس انفراسٹرکچر نے تصدیق کی ہے کہ تھرڈ پارٹی ڈیٹا سینٹریوٹاپر ہوسٹ کیے گئے ان کے سرور میںجزوی طور پر نقب لگائی گئی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھانے پر بھارت سیخ پا، بنگلہ دیش کا کرارا جواب
ریلائنس کو یہ ٹھیکا 2018 میں اسپورٹ انفراسٹرکچر بنانے کے لیے دیا گیا تھا۔ ہیکرز نے ریلائنس کی مجموعی طور پر ساڑھے 8 لاکھ سے زائد فائلیں چوری کیں، جن میں سے سب سے حساس 19,000 فائلیں کوڈن کولم پلانٹ کی تھیں۔
نیوکلیئر تھریٹ انیشیٹو(این ٹی آئی)ے سینئر ڈائریکٹر نکولس روتھ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حساس ڈیٹا کا منظرِ عام پر آنا بجلی گھر کی حفاظت کے لیے ایک “سنجیدہ خطرہ” بن سکتا ہے۔ اس سے دشمن عناصر کو یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ اس سسٹم تک کس کی رسائی ہے اور کون سے نیٹ ورکس کمزور ہیں۔
دوسری طرف، بھارت کی سائبر سکیورٹی ایجنسی اور نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ دوسری بار ہے جب کوڈن کولم پاور پلانٹ کسی سائبر واقعے کی زد میں آیا ہے، اس سے قبل 2019 میں بھی اس کے انتظامی نیٹ ورک پر ایک غیر ملکی ہیکر گروپ کا مالویئر (وائرس) پایا گیا تھا۔




