مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھانے پر بھارت سیخ پا، بنگلہ دیش کا کرارا جواب

ڈھاکہ(کشمیر ڈیجیٹل)ڈھاکہ / اسلام آباد:بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں بنگلہ دیش انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیزکے زیر اہتمام سارک ممالک کے تعاون اور علاقائی یکجہتی کی بحالی سے متعلق ایک اہم سیمینار منعقد ہوا۔

تقریب کے دوران اس وقت سفارتی ماحول انتہائی گرم ہو گیا جب بھارت کیلئے بنگلہ دیش کے سابق ہائی کمشنر اور مایہ ناز سفارت کار طارق اے کریم نے اپنی پریزنٹیشن کے دوران اسکرین پر ایک نقشہ پیش کیا، جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کو پاکستان کے نقشے کا حصہ دکھایا گیا تھا۔

نقشہ اسکرین پر نمودار ہوتے ہی ہال میں موجود بھارتی ہائی کمیشن کی سیکنڈ سیکرٹری پوجا کماری جھا شدید تلملا اٹھیں اور پریزنٹیشن کے دوران ہی احتجاج شروع کر دیا۔

بھارتی مندوب نے غصے میں سیخ پا ہوتے ہوئے اونچی آواز میں کہا کہ سر! یہ نقشہ بالکل غلط ہے۔ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور آپ اسے غلط طریقے سے پیش کر رہے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سردار تنویر الیاس سے سردار حسن ابراہیم کی اہم ملاقات،ملکر چلنے پر اتفاق

بھارتی مندوب کی اس اچانک مداخلت اور اشتعال انگیزی پر بنگلہ دیشی سفارت کار طارق اے کریم نے انتہائی پرسکون اور سنجیدہ انداز میں کرارا جواب دیا۔

انہوں نے بھارتی خاتون افسر کو ٹوکتے ہوئے واضح کیا کہ یہ نقشہ محض ایک نظریاتی اور علامتی پیشکش (Representational Purpose)

کیلئے استعمال کیا گیا ہے جس کا مقصد بین الاقوامی سرحدوں کا حتمی تعین کرنا نہیں بلکہ خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال کو واضح کرنا ہے۔

بنگلہ دیش کے خارجہ پالیسی سیمینار میں ہندوستانی عہدیداروں نے نقشے میں مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھانے پر اعتراض کیا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:کورممبر ایکشن کمیٹی سردار امان کی پاکستانیوں کیخلاف ہرزا سرائی،بدکلامی کی انتہا

اس کے جواب میں بنگلہ دیشی سفارتکار طارق اے کریم نے ان سے کہا کہ مداخلت کرنے سے پہلے سن لو جو میں کہہ رہا ہوں۔جب میری بات ختم ہوجائے تو پھر جو کہنا ہے کہہ دینا ۔

سیمینار کا انعقاد بنگلہ دیش انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز نے کیا تھا اور اس میں کئی ممالک کے سفارت کاروں نے شرکت کی۔

بنگلہ دیش میں خارجہ پالیسی کے ایک سیمینار میں، ایک نقشے میں پاکستان کے زیر انتظام اور ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھایا گیا تھا۔

بھارتی سیکرٹری اور ایک بھارتی صحافی کی طرف سے اعتراض اٹھایا گیا، جس نے دلیل دی کہ جموں و کشمیر بھارت کا حصہ ہے اور نقشہ غلط ہے۔