منظر نقوی
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست اور سلامتی کے مرکز میں آ کھڑا ہوا ہے۔ ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کا یہ اعلان کہ “یکطرفہ معاہدوں کا دور ختم ہو چکا ہے” درحقیقت تہران کی نئی سفارتی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا یہ واضح پیغام کہ اگر معاہدوں کی پاسداری نہ کی گئی تو اس کی قیمت ادا کرنا ہوگی، ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی ایک بار پھر انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ چکی ہے۔
امریکہ کی جانب سے حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر جوابی حملے کیے اور اس کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا۔ تہران کا مؤقف ہے کہ امریکہ نے جنگ بندی کے معاہدے کی متعدد بار خلاف ورزی کی، لہٰذا جب تک امریکی مداخلت کا سلسلہ بند نہیں ہوتا، آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔ یہ صرف ایک عسکری اقدام نہیں بلکہ ایک واضح سفارتی پیغام بھی ہے کہ اب ایران ایسے کسی معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جس میں صرف ایک فریق اپنی ذمہ داریاں نبھائے جبکہ دوسرا انہیں نظرانداز کرتا رہے۔
محمد باقر قالیباف نے اپنے بیان کے ساتھ امریکہ کے ساتھ طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی پانچویں شق کا حوالہ بھی دیا، جس میں آبنائے ہرمز کو ایران کے طے کردہ انتظامات کے مطابق کھولنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اپنی موجودہ پالیسی کو محض ردعمل نہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ سفارتی نکات کی روشنی میں پیش کر رہا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر یہ معاملہ بین الاقوامی معاہدوں کی ساکھ اور ان پر عمل درآمد کے حوالے سے نہایت اہم بن جاتا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایران کا آبنائے ہرمز کے تحفظ کا عزم ، امریکہ اور اسرائیل کو سنگین نتائج کی وارننگ
آبنائے ہرمز صرف ایران یا خلیجی ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کی معیشت کی شہ رگ ہے۔ دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس اسی سمندری راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ اس راستے کی بندش نہ صرف تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کرتی ہے بلکہ عالمی تجارت، بحری نقل و حمل، صنعتی پیداوار اور افراطِ زر پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ توانائی درآمد کرنے والے ممالک، خصوصاً پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک، ایسے بحرانوں کا سب سے زیادہ معاشی بوجھ برداشت کرتے ہیں۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ اور ایران کے تعلقات بداعتمادی، پابندیوں، عسکری کشیدگی اور ناکام مذاکرات کی تاریخ سے عبارت رہے ہیں۔ متعدد مواقع پر معاہدے ہوئے لیکن ہر بار دونوں فریق ایک دوسرے پر وعدہ خلافی کا الزام لگاتے رہے۔ اس مسلسل عدم اعتماد نے سفارت کاری کو کمزور کیا، سخت گیر عناصر کو مضبوط کیا اور مذاکرات کے امکانات کو محدود کر دیا۔ موجودہ بحران بھی اسی طویل سلسلے کی ایک نئی کڑی معلوم ہوتا ہے۔
اس صورتحال کا ایک اہم سبق یہ بھی ہے کہ طاقت کے استعمال سے دیرپا امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ میزائلوں اور فوجی کارروائیوں سے وقتی سیاسی یا عسکری مقاصد تو حاصل کیے جا سکتے ہیں، مگر ان سے بنیادی تنازعات حل نہیں ہوتے۔ اس کے برعکس ایسے اقدامات خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کرتے ہیں، عالمی تجارت کو متاثر کرتے ہیں اور عام شہریوں کو معاشی و انسانی مشکلات سے دوچار کر دیتے ہیں۔
آج عالمی برادری، اقوام متحدہ اور بااثر ممالک کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہیں فوری طور پر ایسے سفارتی اقدامات کرنے چاہئیں جو کشیدگی میں کمی، بحری گزرگاہوں کی سلامتی اور مذاکراتی عمل کی بحالی کو یقینی بنائیں۔ بین الاقوامی معاہدوں کی اہمیت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب تمام فریق ان پر یکساں اور دیانت داری سے عمل کریں۔ اگر معاہدے صرف وقتی سیاسی مفادات کے لیے استعمال ہوں تو پھر عالمی سفارت کاری پر اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاسداران انقلاب ایران کا آبنائے ہرمز ایک بار پھر بند کرنے کا اعلان
پاکستان کے لیے بھی یہ صورتحال نہایت حساس ہے۔ خلیجی خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی براہِ راست پاکستان کی معیشت، توانائی کی ضروریات اور تجارتی سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، شپنگ کے اخراجات میں اضافہ اور مہنگائی کا نیا طوفان پاکستان جیسے ممالک کے لیے مزید معاشی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ اسی لیے پاکستان کی مستقل پالیسی، جس میں مذاکرات، تحمل اور پرامن حل پر زور دیا جاتا ہے، آج پہلے سے کہیں زیادہ اہم دکھائی دیتی ہے۔
اس بحران نے ایک بنیادی حقیقت کو بھی اجاگر کیا ہے کہ سفارت کاری کی کامیابی اعتماد پر منحصر ہوتی ہے۔ جب کسی ایک فریق کو یہ احساس ہو کہ اس کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے جا رہے تو مستقبل کے مذاکرات بھی مشکوک ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر تمام فریق اپنی ذمہ داریوں کا احترام کریں تو اختلافات کے باوجود امن کا راستہ کھلا رہتا ہے۔
محمد باقر قالیباف کا حالیہ بیان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران اب اپنے قومی مفادات اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے زیادہ مضبوط اور واضح مؤقف اختیار کر چکا ہے۔ تاہم اس بحران کا حقیقی حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ سنجیدہ، باوقار اور بااعتماد سفارت کاری میں پوشیدہ ہے۔ دنیا ایک ایسے نئے بحران کی متحمل نہیں ہو سکتی جو عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور علاقائی استحکام کو مزید خطرات سے دوچار کر دے۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ تمام فریق تصادم کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں، معاہدوں کی پاسداری کریں اور ایک ایسے عالمی نظام کی بنیاد رکھیں جہاں وعدے صرف کاغذی دستاویزات نہ ہوں بلکہ باہمی اعتماد اور پائیدار امن کی ضمانت بن سکیں۔



