کرن عزیز کشمیری

عالمی برادری کیلئے اہم سوال

تحریر: کرن عزیز کشمیری

آبنائے ہرمز کے گرد ہونے والے حملوں نے خطے میں امن قائم ہونے کے تاثر کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ اس امر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ چند ممالک، خاص طور پر بھارت اور اسرائیل، خطے کے امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

امریکہ کی جانب سے ایران کی بعض فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا اس تاثر کو تقویت دے رہا ہے کہ امن کے قیام کی کوششوں میں مصروف، یا کم از کم دعویٰ کرنے والا ملک امریکہ، کسی الگ ہی منصوبے پر عمل پیرا ہے، اور یہ کہ جنگ بندی کو یقینی بنانے کے بجائے خطرات پیدا ہونا خود امریکہ کے لیے بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بڑھتی کشیدگی، امریکا کا ایک اور بحری بیڑہ مشرق وسطیٰ پہنچ گیا

ایران کی جانب سے امریکی کارروائیوں کے خلاف اقدامات کا مطلب یہ ہے کہ خطے میں امن قائم ہونا ایک بظاہر مشکل مرحلہ ہے۔ دوسری جانب، یہ امر غور طلب ہے کہ اسرائیل کسی طور بھی امریکہ اور ایران کے درمیان معاملات حل ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا، تو امن کیسے قائم ہو سکتا ہے؟

مشرق وسطیٰ ایک نئے سفارتی توازن کی طرف بڑھ رہا ہے، جب کہ بندوقوں کی گھن گرج، میزائلوں کی پرواز اور بحری گزرگاہوں پر بڑھتے ہوئے خطرات اس امید کو کمزور کر رہے ہیں کہ مذاکرات کے ذریعے امن ممکن ہو سکے گا۔ بات چیت کا جو سلسلہ ہے، اگر نتیجہ خیز ثابت نہ ہوا، تو اس امر کے تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ کشیدگی کے نئے سرے سے آغاز کا خود ذمہ دار ہے۔

یہی وہ اہم لمحہ ہے جہاں عالمی طاقتوں کی ذمہ داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے، اور اس سلسلے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو کسی ایک فیصلے سے پورے خطے کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے، اور جس کی شدت ہر سو محسوس کی جا سکتی ہے۔

علاقائی طاقتیں اور ثالث ممالک اس معاملے کی جانب فوری توجہ دیں۔ ماضی میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ طویل جنگوں سے انسانیت کا کیا حشر ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اور معاشی اہمیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ نہ صرف یہ ایک سمندری راستہ ہے بلکہ توانائی کی ترسیل کی مرکزی شاہراہ بھی ہے۔ پوری دنیا اس راستے کو استعمال کرتی ہے، اور یہ ایک حساس معاملہ ہے۔

واضح رہے کہ اہم قوتوں کے طرز عمل اور حالیہ واقعات کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے سبب صورتحال اگر مزید بگڑی، معاملات نقصان کی طرف گئے، تو اس کا خمیازہ دنیا کے عام شہریوں کو بھی بھگتنا پڑے گا۔

اب عالمی برادری سے اہم سوال یہ ہے کہ اس طرز عمل سے خطے میں امن کو استحکام ملے گا یا امن کو خطرات لاحق ہو جائیں گے؟ امریکہ، اسرائیل کی جانب سے کی گئی دہشت گردی کی کارروائیوں میں جو کردار ادا کر رہا ہے، وہ ایک سوالیہ نشان ہے۔

اس سلسلے میں اہم امر یہ ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے دنیا یہ تجربہ دیکھ رہی ہے کہ طاقت کے زور پر کوئی جنگ امن نہیں لے کر آئی، نہ ہی کسی ایک فریق کی فتح ہوئی۔ جنگیں کسی صورت امن نہیں لا سکتیں۔ جو ملک امن کی زبانی جمع خرچ والی باتیں کرتے ہیں، وہی امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایران کا آبنائے ہرمز کے تحفظ کا عزم ، امریکہ اور اسرائیل کو سنگین نتائج کی وارننگ

امن کے لیے بالآخر فریقین کو میز پر آنا ہی پڑنا ہے۔ کوئی ایک ملک خطے کا ٹھیکیدار بننے کے چکر میں کمزور ملکوں کو اپنے تابع نہیں کر سکتا۔ اس وقت انسانی جانوں اور معاشی وسائل کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔

عالمی قوتوں کو مل بیٹھ کر اس اہم اور سنجیدہ امر پر بات کرنی ہوگی کہ جو اس وقت معاہدے ہو رہے ہیں، ان عالمی طاقتوں کے درمیان، جن میں امریکہ، اسرائیل وغیرہ سرفہرست ہیں، یہ معاہدے ایک تحریری کاغذ کے طور پر تو اپنی اہمیت رکھتے ہوں گے، تاہم عملی کردار اہم ہے۔

یہی وہ اہم نکتہ ہے جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بلا شبہ، کسی بھی تنازعہ میں مذاکرات کا آغاز ایک امید کی کرن ہوتا ہے۔

اس پورے منظر نامے میں سب سے زیادہ تشویش والی بات یہ ہے کہ امن معاہدے کی طرف تحریری قدم بڑھانے کے بعد فوری طور پر ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں یا مخالف قوتیں ایک دوسرے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔ اگر کسی محاذ پر حالات قابو سے باہر ہوتے ہیں، تو پھر خاموش تماشائی کے طور پر کردار ادا کرنے والی قوتیں خطے میں کشیدگی کی بنیاد ہوں گی۔

امریکہ اور ایران کے مابین بات چیت میں اگر سنجیدگی نہ پائی گئی، تو ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی قرضوں کے دباؤ میں ہیں، معاشی مشکلات کا شکار رہیں گے، مزید پستی کی حالت میں چلے جائیں گے۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ عالمی برادری ان قوتوں پر دباؤ ڈالنے میں ناکام ہے جو امن معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہیں۔ کسی بھی صورت میں اشتعال انگیزی درست نہیں۔