محسن رضائی

ایران کا آبنائے ہرمز کے تحفظ کا عزم ، امریکہ اور اسرائیل کو سنگین نتائج کی وارننگ

ایرانی سپریم لیڈر کے سینئر مشیر اور ممتاز سیاسی و عسکری رہنما محسن رضائی نے آبنائے ہرمز کو ایران کا ایک انتہائی اہم اسٹریٹجک ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ کی اہمیت درجنوں ایٹمی بموں سے بھی زیادہ ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق انہوں نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہر قیمت پر اس عالمی بحری راستے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے اور دشمن قوتوں کو باز رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

محسن رضائی نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور بین الاقوامی امور پر گفتگو کرتے ہوئے عالمی طاقتوں کو سخت وارننگ دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر دشمن ممالک نے بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر سیاسی و عسکری رہنماؤں کے قتل کے کلچر کو فروغ دیا، تو اس کے نتیجے میں دنیا کے کسی بھی ملک کی سلامتی کی ضمانت باقی نہیں رہے گی اور عالمی امن شدید خطرات سے دوچار ہو جائے گا۔

ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان دونوں رہنماؤں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی ریڈ لائن عبور کی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اور اسرائیل نے جو جارحانہ اقدامات کیے ہیں، انہیں اب ان کے سنگین نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے کیونکہ ایران اپنے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

محسن رضائی نے امریکہ کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے کہا کہ حالیہ کشیدگی اور معاندانہ اقدامات کے بعد اب امریکہ کے ساتھ دوستی یا مذاکرات کی باتیں یکسر بے معنی ہو چکی ہیں۔

انہوں نے ایرانی قوم پر زور دیا کہ وہ اپنے حقوق، قومی خودمختاری اور وقار کے دفاع کے لیے ایک مضبوط اور متحد مؤقف اختیار کرے۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کو آپس میں ملانے والا دنیا کا سب سے اہم ترین بحری راستہ ہے۔

عالمی سطح پر تجارت کیے جانے والے تیل کی ایک بہت بڑی مقدار روزانہ اسی گزرگاہ سے ہو کر دنیا بھر میں پہنچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی توانائی کی سلامتی اور معاشی تجارت کے لیے اس آبی راستے کو انتہائی حساس اور کلیدی حیثیت حاصل ہے۔