ریلیف آرگنائزیشن فار کشمیری مسلمز کے زیراہتمام40 جوڑوں کی شادی کی پروقارتقریب

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) ریلیف آرگنائزیشن فار کشمیری مسلمزکے زیرِ اہتمام 1989ء کے کشمیری مہاجرین کے40 مستحق جوڑوں کی اجتماعی شادی کی پروقار تقریب رائل دیوان مارکی اسلام آباد میں منعقد ہوئی

شادی کی پروقار تقریب میں  نوبیاہتا جوڑوں کو مکمل گھریلو سامان پر مشتمل شادی پیکیج بھی فراہم کیا گیا تاکہ وہ باوقار انداز میں اپنی ازدواجی زندگی کا سفر شروع کر سکیں۔

اجتماعی شادی میں آزاد جموں وکشمیر کے باغ اور مظفرآباد اضلاع میں قائم مہاجر کیمپوں کے علاوہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں مقیم مستحق کشمیری مہاجر خاندانوں کیساتھ وابستہ 40 جوڑے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے۔

اجتماعی شادی کی مذکورہ تقریب میں نائب امیر جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر نورالباری، محمود فوزی، قاری مصعب، نثار احمد نائیک، ہلال احمد ، جاوید حسین اور دیگر سماجی و مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:فیڈرل پبلک سروس کمیشن میں 20 نئی ملازمتوں کا اعلان، امتحانی نظام کو آٹومیٹڈ کرنے کا فیصلہ

تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا گیا، جبکہ قاری مصعب نے خطبۂ نکاح دیا ۔ مہمانِ خصوصی نورالباری نے اپنے خطاب میں نکاح کی دینی و سماجی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مستحق خاندانوں کی عزتِ نفس کو برقرار رکھتے ہوئے ان کی مدد کرنا اسلامی تعلیمات کا بنیادی تقاضا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اجتماعی شادیوں جیسے فلاحی منصوبے نہ صرف معاشی مشکلات کا شکار خاندانوں کیلئے آسانیاں پیدا کرتے ہیں بلکہ معاشرے میں ایثار، ہمدردی اور باہمی تعاون کے جذبے کو بھی فروغ دیتے ہیں۔

اس موقع پر ریلیف آرگنائزیشن فار کشمیری مسلمز کے CEO اور وائس چیئرمین ثناء اللہ ڈار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ادارے کی گزشتہ 33 برسوں سے زائد عرصے پر محیط فلاحی خدمات کا تفصیلی خاکہ پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ تنظیم اپنی قیام سے لے کر اب تک کشمیری مہاجرین، یتیم بچوں، بیواؤں، مستحق خاندانوں اور آزاد کشمیر میں قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی مدد کیلئے مسلسل سرگرمِ عمل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اجتماعی شادیوں، تعلیمی معاونت، طبی امداد، راشن کی فراہمی اور دیگر رفاہی منصوبوں کے ذریعے ہزاروں خاندانوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کی بلاتفریق کوشش کی جا رہی ہے۔ہمارا ماضی اس کی گواہی دے رہا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دو روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ گئے

تقریب کے اختتام پر تمام نوبیاہتا جوڑوں میں گھریلو استعمال کا مکمل شادی پیکیج تقسیم کیا گیا، جبکہ ان کے اعزاز میں پرتکلف ظہرانے کا بھی اہتمام کیا گیا۔

شرکاء نے ریلیف آرگنائزیشن فار کشمیری مسلمز کی تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط مسلسل فلاحی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ خاموشی اور اخلاص کے ساتھ کشمیری مہاجرین اور دیگر مستحق خاندانوں کی خدمت انجام دے رہا ہے۔

انہوں نے بالخصوص سی ای او و وائس چیئرمین ثناء اللہ ڈار اور ان کی پوری ٹیم کی انتھک محنت، دیانت داری اور خدمتِ خلق کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے ادارے اور افراد معاشرے کا حقیقی سرمایہ ہیں، جو بے لوث خدمت کے ذریعے ہزاروں ضرورت مند خاندانوں کے چہروں پر خوشیاں بکھیرتے ہیں۔

شرکاء نے مخیر حضرات، سماجی تنظیموں اور صاحبِ حیثیت افراد پر زور دیا کہ وہ بھی ریلیف آرگنائزیشن فار کشمیری مسلمز جیسے اداروں کا ہاتھ بٹائیں تاکہ مزید مستحق خاندانوں کی مدد ممکن بنائی جا سکے اور معاشرے میں فلاح، ہمدردی اور اجتماعی ذمہ داری کے جذبے کو مزید فروغ حاصل ہو۔