پاکستان اور ترکیہ کے مابین دہائیوں پر محیط برادرانہ تعلقات اور اسٹریٹجک ہم آہنگی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ چیف آف آرمی اسٹاف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر 2 روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ گئے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق انقرہ آمد پر ترکیہ کے اعلیٰ حکام اور فوجی قیادت کی جانب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا انتہائی پرجوش اور پروقار استقبال کیا گیا۔
اس اہم دورے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے مابین دفاعی و اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ اپنے قیام کے دوران وہ ترکیہ کی سیاسی و عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے، جن میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور دفاعی تعاون بڑھانے پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔
پاک ترکیہ دفاعی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی:
دونوں برادر ممالک کے تعلقات مشترکہ عقیدے، ثقافت اور گہری وابستگی پر استوار ہیں، جبکہ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں، دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے شعبوں میں پہلے ہی گہرا تعاون موجود ہے۔ پاکستان ترکیہ سے جدید دفاعی سازوسامان بشمول کارویٹ جہاز اور ڈرون ٹیکنالوجی حاصل کرتا رہا ہے، اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ دورہ اسی باہمی تسلسل کو مزید آگے بڑھانے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہبازشریف کا فیلڈ مارشل کے ہمراہ دورہ کوئٹہ،دہشتگرد نیٹ ورکس کوکچلنے کا عزم
دورے کے علاقائی اثرات اور امتِ مسلمہ کے چیلنجز:
موجودہ عالمی اور علاقائی سیکیورٹی منظرنامے، خصوصاً مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور ایشیا میں بدلتے ہوئے جیو پولیٹیکل حالات کے پیش نظر، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ دورہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کا مشترکہ مؤقف خطے میں استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔
اس دورے سے نہ صرف دونوں ممالک کے مابین انٹیلی جنس شیئرنگ اور دہشتگردی کے خلاف تعاون میں اضافہ ہوگا، بلکہ دفاعی صنعت میں مشترکہ منصوبوں کو بھی نئی جلا ملے گی۔ دونوں برادر ممالک کی قیادت کا ایک میز پر بیٹھنا امت مسلمہ کے مشترکہ چیلنجز کے حل کے لیے بھی مثبت ثابت ہوگا۔




