فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) نے اپنے اندرونی معاملات کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور امتحانی نظام کو مکمل طور پر خودکار (آٹومیٹڈ) بنانے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 20 نئی کنٹریکٹ ملازمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تمام بھرتیاں وفاقی حکومت کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت فنڈڈ ڈیجیٹلائزیشن پروجیکٹ کا حصہ ہیں۔
ابتدائی طور پر یہ تمام آسامیاں 1 سال کے معاہدے (کنٹریکٹ) کی بنیاد پر پُر کی جائیں گی، تاہم بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ملازمین کے کنٹریکٹ میں مزید 1 سال کی توسیع کی جا سکے گی یا یہ منصوبہ مکمل ہونے تک برقرار رہے گا۔
درخواست کے لیے مطلوبہ عہدے اور شعبہ جات:
ڈیجیٹلائزیشن کے اس اہم ترین منصوبے کے لیے درج ذیل اہم عہدوں پر درخواستیں مطلوب ہیں:
- پروجیکٹ ڈائریکٹر اور کوالٹی ایشورنس (کیو اے) مینیجر
- سائبر سیکیورٹی آفیسر اور ڈیٹا بیس اسپیشلسٹ
- پروکیورمنٹ آفیسر اور سافٹ ویئر ڈیویلپر
- سسٹم و نیٹ ورک انجینئر اور کیو اے اینڈ ٹیسٹنگ انجینیئر
اس کے علاوہ مختلف مضامین کے ماہرین (سبجیکٹ اسپیشلسٹ) کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی جن میں انگریزی، تعلیم، کمپیوٹر سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی، ریاضی و جنرل ابیلٹی، مینجمنٹ سائنس و پبلک ایڈمنسٹریشن، اور میڈیکل اینڈ الائیڈ ہیلتھ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں پھر نمایاں کمی، فی تولہ سونا 3,800 روپے سستا ہو گیا
اہلیت کا معیار اور طریقہ کار:
ایف پی ایس سی کے اعلامیے کے مطابق یہ تمام بھرتیاں خالصتاً اوپن میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں گی اور کسی بھی قسم کا کوئی علاقائی کوٹہ لاگو نہیں ہوگا۔ صرف شارٹ لسٹ کیے گئے امیدواروں کو ہی انٹرویو کے لیے طلب کیا جائے گا۔ جو امیدوار پہلے سے سرکاری یا نیم سرکاری اداروں میں ملازم ہیں، ان کے لیے محکمانہ وساطت (پراپر چینل) سے درخواست دینا لازمی ہوگا۔
کمیشن نے واضح کیا ہے کہ نامکمل درخواستیں قابل قبول نہیں ہوں گی اور ٹیسٹ یا انٹرویو کے لیے آنے والے امیدواروں کو کوئی سفری الائونس یا روزانہ کا الائونس (ٹی اے، ڈی اے) نہیں دیا جائے گا۔ خواہش مند امیدوار اشتہار کی اشاعت کے 15 دنوں کے اندر ایف پی ایس سی کی ویب سائٹ پر آن لائن درخواست جمع کروا سکتے ہیں۔
ایف پی ایس سی کو ڈیجیٹلائزیشن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
فیڈرل پبلک سروس کمیشن پاکستان کا وہ اعلیٰ ترین آئینی ادارہ ہے جو ملک کی بیوروکریسی اور اعلیٰ سرکاری عہدوں کے لیے موزوں ترین امیدواروں کا انتخاب کرتا ہے۔ ماضی میں ایف پی ایس سی کے روایتی امتحانی نظام، نتائج میں تاخیر اور کاغذی کارروائی کے باعث امیدواروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔
جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومت نے امتحانی نظام میں شفافیت لانے اور انسانی مداخلت کو کم سے کم کرنے کے لیے اس پی ایس ڈی پی پروجیکٹ کی منظوری دی ہے۔ اس سے قبل بھی بیوروکریسی کے امتحانات (سی ایس ایس) کے طریقہ کار کو جدید بنانے پر بات ہوتی رہی ہے، اور یہ حالیہ پروجیکٹ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے تاکہ پورا نظام فول پروف اور تیز رفتار ہو سکے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی تاریخی معاہدہ: سال 2030 تک 10 لاکھ ہنر مند پاکستانیوں کو روزگار فراہم کیا جائے گا
اس منصوبے کے ملکی نظام پر اثرات:
ایف پی ایس سی کا یہ اقدام پاکستان کے سرکاری محکموں میں ’ای گورننس‘ اور ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا بیس اور سافٹ ویئر انجینیئرز کی خدمات حاصل کرنے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ کمیشن اب جدید ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ ان آسامیوں سے جہاں آئی ٹی کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد کو روزگار کے بہترین مواقع ملیں گے، وہی امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خطرات کا خاتمہ ہوگا اور نتائج کی تیاری میں شفافیت آئے گی۔
سبجیکٹ اسپیشلسٹ کی شمولیت سے امتحانی سوالات کا معیار عالمی سطح کے مطابق بنانے میں مدد ملے گی۔ تاہم، کنٹریکٹ کی بنیاد پر بھرتیاں بعض اوقات قابل ماہرین کو طویل عرصے کے لیے راغب کرنے میں رکاوٹ بنتی ہیں، اس لیے حکومت کو مستقبل میں ان عہدوں کو مستقل کرنے پر بھی غور کرنا چاہیے تاکہ پروجیکٹ کے ثمرات دیرپا ثابت ہوں۔




