تحریر، خواجہ کاشف میر
اصلاحات کی تحریکیں اور انقلابی تحریکیں بظاہر ایک جیسی دکھائی دیتی ہیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ ان کی منزل، حکمتِ عملی اور انجام ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ آزاد کشمیر میں حکومت کی طرف سے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حالیہ تحریک بھی اسی موڑ پر کھڑی نظر آتی ہے، جہاں یہ فیصلہ ہونا ہے کہ اس کا اصل مقصد ریاستی نظام میں اصلاحات لانا ہے یا ایک ایسے تصادم کی طرف بڑھنا ہے جس کا انجام کسی کے قابو میں نہ رہے۔
گزشتہ ایک ماہ کے دوران اس تحریک نے آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ احتجاجی دھرنوں، عوامی اجتماعات، مذاکرات، گرفتاریاں، جانی نقصانات اور مسلسل کشیدگی نے ثابت کیا کہ عوامی مسائل حقیقی ہیں اور ان کا حل ناگزیر ہے۔ لیکن ہر عوامی تحریک ایک ایسے مرحلے پر پہنچتی ہے جہاں جذبات اور حکمت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ دنیا کی کامیاب اصلاحاتی تحریکیں اپنی اخلاقی برتری برقرار رکھنے کی وجہ سے کامیاب ہوئیں۔ امریکہ میں مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی شہری حقوق کی تحریک، بھارت میں مہاتما گاندھی کی عدم تشدد کی جدوجہد، پولینڈ میں سالیڈیرٹی موومنٹ اور جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف جدوجہد۔ ان سب نے شدید دباؤ کے باوجود اپنی تحریک کو اس حد تک جانے نہیں دیا جہاں ریاست انہیں آسانی سے “بغاوت” قرار دے سکے۔ اسی اخلاقی برتری نے عالمی رائے عامہ کو ان کے ساتھ کھڑا کیا۔
اس کے برعکس تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جب عوامی تحریکیں جذباتی نعروں، سخت ریاست مخالف بیانیے یا غیر منظم انقلابی دعووں کی طرف مڑتی ہیں تو ریاستوں کو انہیں طاقت سے کچلنے کا جواز مل جاتا ہے۔ لاطینی امریکہ سے لے کر مشرق وسطیٰ تک ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جہاں عوامی غصہ تو موجود تھا، مگر حکمتِ عملی نہ ہونے کے باعث تحریکیں کمزور پڑ گئیں اور ان کا اصل مقصد پس منظر میں چلا گیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مجاہداول سردار عبدالقیوم خان کشمیر بنے گا پاکستان کا استعارہ،الحاق نظریہ تھا، مقررین
آزاد کشمیر کی موجودہ تحریک بھی اسی نازک مقام پر ہے۔ راولاکوٹ دھرنے میں موجود بعض مقررین کے ایسے بیانات اور نعرے جو عوامی جلسوں اور سوشل میڈیا پر وقتی جوش پیدا کرتے ہیں، وہی ریاست کے زمہ داران کے لیے یہ مؤقف اختیار کرنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں کہ تحریک اصلاحات کی نہیں بلکہ ریاستی تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر مقبول نعرہ ضروری نہیں کہ ہر مرحلے پر مفید بھی ہو۔
گزشتہ روز بھی راولاکوٹ میں مزید دو مزید اموات سمیت درجنوں قیمتی جانوں کا ضیاع اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ اب ہر لفظ اور ہر فیصلہ صرف سیاسی نہیں بلکہ انسانی جانوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ایسی صورت میں اگر قیادت مذاکرات کا راستہ کھولنے، متنازع بیانیے سے فاصلہ اختیار کرنے اور تحریک کو اس کے بنیادی مطالبات تک محدود رکھنے کی کوشش کرتی ہے تو اسے کمزوری نہیں بلکہ سیاسی بصیرت سمجھنا چاہیے۔
انقلاب اور اصلاحات میں بنیادی فرق یہی ہے۔ انقلاب عموماً ریاستی طاقت اور طاقتور قوتوں کے تصادم سے جنم لیتا ہے، جبکہ اصلاحات مسلسل عوامی دباؤ، منظم جدوجہد اور سیاسی عمل کے ذریعے حاصل کی جاتی ہیں۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ انقلابات میں قربانیاں عوام دیتے ہیں، مگر ان کے ثمرات اکثر طاقتور حلقے سمیٹ لیتے ہیں، جبکہ دیرپا اصلاحات مضبوط اداروں، فعال سول سوسائٹی اور مسلسل عوامی نگرانی سے وجود میں آتی ہیں۔
برطانیہ، یورپ اور دیگر جمہوری معاشروں میں حکومتیں عوامی دباؤ، میڈیا، پارلیمان اور عدلیہ کے سامنے جواب دہ ہوتی ہیں، مگر ریاست اپنی جگہ مضبوط رہتی ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب اور خلیجی ممالک جیسے مختلف طرزِ حکومت رکھنے والے ممالک میں بھی ریاستی ڈھانچہ اپنی قوت برقرار رکھتا ہے۔ برصغیر میں بھی ریاست ہمیشہ ایک مضبوط حقیقت رہی ہے۔ اس لیے کسی بھی عوامی تحریک کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ اپنے مقاصد اور اپنی طاقت کا درست ادراک رکھے۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے عوامی مسائل کو قومی بحث کا حصہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب اگلا مرحلہ یہ ہے کہ وہ خود کو ایک منظم، جمہوری اور سیاسی دباؤ کی تحریک کے طور پر آگے بڑھانے کیلئے خود کا وجود بچائے، جہاں مذاکرات، تنظیم، عوامی رابطہ اور آئینی جدوجہد اس کی بنیادی حکمتِ عملی ہوں۔ اگر تحریک کا مقصد عوامی حقوق، بہتر گورننس، شفاف نظام اور ریاستی اصلاحات ہے تو اس کی سب سے بڑی طاقت اس کا پرامن، منظم اور اخلاقی کردار ہی ہوگا۔
تحریکیں نعروں سے نہیں، حکمت سے اپنی منزل تک پہنچتی ہیں۔ جذبات وقتی جوش پیدا کرتے ہیں، مگر تاریخ ہمیشہ ان قیادتوں کو یاد رکھتی ہے جو مشکل ترین حالات میں بھی اپنے مقصد کو جذبات پر قربان نہیں ہونے دیتیں۔



