گلگت بلتستان سپریم اپیلیٹ کورٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے نو منتخب امیدوار فدا محمد نشاد کو کاغذاتِ نامزدگی میں اپنے اثاثے چھپانے اور غلط بیانی کرنے پر نااہل قرار دے دیا ۔
چیف جسٹس سپریم اپیلیٹ کورٹ سردار محمد شمیم خان نے جمعرات کو گلگت بلتستان چیف کورٹ کا وہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت فدا محمد نشاد کو عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:وفاقی جماعتیں عبوری صوبے کیلئے اپنا کردار ادا کریں، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان
عدالتِ عالیہ نے الیکشن ٹریبونل کے اس فیصلے کو برقرار رکھا ہے جس میں ریٹرننگ افسر کی جانب سے ان کے کاغذات مسترد کیے گئے تھے۔
فدا محمد نشاد کے کاغذاتِ نامزدگی ابتدا میں ریٹرننگ افسر نے مبینہ بے ضابطگیوں کے باعث مسترد کر دیے تھے، جس کے خلاف انہوں نے الیکشن ٹریبونل سے رجوع کیا مگر ٹریبونل نے بھی ریٹرننگ افسر کے فیصلے کو درست برقرار رکھا۔
بعد ازاں 25 مئی 2026 کو گلگت بلتستان چیف کورٹ نے الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں انتخابات لڑنے کی اجازت دی تھی۔
7 جون کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد الیکشن کمیشن نے فارم 47 جاری کرتے ہوئے انہیں حلقہ جی بی اے-09 اسکردو3 سے کامیاب امیدوار قرار دیا تھا تاہم ان کے مدِمقابل امیدوار ذاکر حسین نے اس کامیابی کو سپریم اپیلیٹ کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔
چیف جسٹس سردار محمد شمیم خان نے ریونیو ریکارڈ کا جائزہ لینے اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ فدا محمد نشاد نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں اثاثوں کی مکمل تفصیلات ظاہر نہیں کیں اور الیکشن ایکٹ کی لازمی شقوں کی خلاف ورزی کی۔
عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں واضح کیا کہ ’الیکشن ٹریبونل نے انہیں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 62(1)(f) کے تحت درست طور پر نااہل قرار دیا تھا جبکہ چیف کورٹ نے کسی مضبوط قانونی بنیاد کے بغیر ٹریبونل کے حتمی فیصلے کو کالعدم قرار دیا، جو قانون کے مطابق درست نہیں تھا۔‘
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کے نمائندوں کو پارلیمنٹ میں دیکھنا چاہتے ہیں ، بلاول
عدالت نے اپنے فیصلے کی نقل چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کو ارسال کرتے ہوئے فوری قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے۔
رواں ہفتے ہی پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار ایڈووکیٹ امجد حسین نے گلگت بلتستان کے نئے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف بھی اٹھایا ہے، ایسے میں پی پی کے کامیاب امیدوار کی نااہلی خطے کی سیاست میں ایک نیا موڑ لے آئی ہے۔




