وفاقی جماعتیں عبوری صوبے کیلئے اپنا کردار ادا کریں، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان

گلگت بلتستان کے نومنتخب وزیر اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ نے حلف برداری کے بعد اپنے پہلے عوامی خطاب میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام نے پاکستان پیپلز پارٹی کو مینڈیٹ دے کر ان کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد کی ہے، جسے وہ عوامی توقعات کے مطابق پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جس اعتماد کے ساتھ انہیں یہ ذمہ داری سونپی ہے، وہ اس پر پورا اترنے کے لیے شب و روز محنت کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:امجد حسین ایڈووکیٹ نے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

وزیراعلیٰ نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف، استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ علیم خان اور وفاقی وزیر امیر مقام کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تعاون کے باعث وزیراعلیٰ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا بلا مقابلہ انتخاب ممکن ہوا، جو سیاسی ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان قدرتی وسائل، سیاحت اور معدنی ذخائر سے مالا مال خطہ ہے، تاہم بہتر سفری سہولیات اور بین الاقوامی پروازوں کے بغیر سیاحت کی حقیقی استعداد سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ معدنی وسائل، زراعت، لائیو اسٹاک، ماہی پروری اور سرحدی تجارت کو جدید منصوبہ بندی کے ذریعے فروغ دے کر روزگار کے وسیع مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

امجد حسین آزر نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے تعین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی جماعتیں انتظامی صوبے کو عبوری آئینی صوبے میں تبدیل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کو گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے لیے قومی اسمبلی میں مؤثر آواز اٹھانے پر خراج تحسین بھی پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو ترقیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم از کم 258 ارب روپے درکار ہیں جبکہ وفاق نے صرف 142 ارب روپے فراہم کیے ہیں، جس سے تقریباً 100 ارب روپے کا بجٹ خسارہ پیدا ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امجد ایڈووکیٹ بلا مقابلہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان منتخب، سپیکر ڈپٹی سپیکر کا بھی بلامقابلہ انتخاب

انہوں نے کہا کہ 23 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ اور سبسڈی کی مد میں 15 ارب روپے بھی ناکافی ہیں، اس لیے وفاق سے گلگت بلتستان کا مالی حق حاصل کیا جائے گا تاکہ نوجوانوں، خواتین اور عوامی فلاح کے منصوبے شروع کیے جا سکیں۔

وزیراعلیٰ نے بجلی بحران کو خطے کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آبی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود عوام 22 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ برداشت کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ اس صورتحال میں مقامی انتظامی کمزوریاں اور وفاقی فنڈز کی کمی دونوں عوامل شامل ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 54 میگاواٹ منصوبے، ہرپو، ہینزل، کے آئی یو، سکار کوئی، نلتر 16 میگاواٹ اور دیگر پن بجلی منصوبوں کی تکمیل کے لیے روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کی جائے گی اور کسی قسم کی سستی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت، دیامر اور استور سمیت مختلف علاقوں میں ایک ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور حکومت آئندہ پانچ برسوں میں گلگت بلتستان سے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے بھرپور اقدامات کرے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی کے بغیر لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں، اس لیے حکومت بلوں کی وصولی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام شعبوں میں اصلاحات نافذ کر کے گلگت بلتستان کو پاکستان کا ایک ماڈل صوبہ بنایا جائے گا، جہاں میرٹ، شفافیت اور گڈ گورننس کو بنیادی اصول بنایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کے نمائندوں کو پارلیمنٹ میں دیکھنا چاہتے ہیں ، بلاول

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی سرحدیں چین، افغانستان اور تاجکستان سمیت اہم ممالک سے ملتی ہیں، اس لیے سرحدی تجارت کو فروغ دینا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک چین بارڈر ٹریڈ کو آل ویدر بنانے کا کریڈٹ بلاول بھٹو زرداری کو جاتا ہے، جبکہ اس تجارت کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور میں رکھی تھی۔