بلوچستان: دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ، ملک دشمن عناصر کو پاکستان کی ترقی ہضم نہیں ہورہی، ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی (کشمیر ڈیجیٹل ) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ الہندوستان اور خوارج نے پہلے منگی ڈیم کے قریب بلوچستان پولیس کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا ۔

سکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران 15خوارج کو واصل جہنم کیاجبکہ فتنہ الخوارج کیخلاف لڑتے ہوئے پہلے دن ہمارے 18 پولیس اہلکار شہید ہوئے ، بلوچستان میں چار روز میں تین دہشتگردی کے واقعات ہوئے۔

بلوچستان میں چار دن میں 3 دہشتگردانہ واقعات ،نو پولیس اہلکار شہید،15خوارج واصل جہنم ہوئے ، گھیرا تنگ ہوا تو بزدل دہشتگردوں نے پولیس کے 18جوانوں کو شہید کردیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر انتخابات : الیکشن کمیشن نے حتمی پولنگ اسکیم جاری کر دی، ووٹرز اور پولنگ اسٹیشنز کے تفصیلی اعداد و شمار سامنے آ گئے

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے مذموم مقاصد کیلئے شہریوں کو نشانہ بنایا ۔خضدار میں فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے معصوم شہریوں پر حملے کئے جبکہ سکیورٹی فورسز نے خاران میں 14دہشتگردوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج ، ایف سی کے جوانوں نے دہشتگردوں کا پیچھا کیا، بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کیخلاف لڑتے ہوئے اب تک 42جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ۔

بلوچستان کے ان تین آپریشنز میں اب تک 54دہشتگردوں کو سکیورٹی فورسز نے واصل جہنم کیا، بلوچستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت اور وہ عالمی قوتیں ہیں جنہیں پاکستان کی عالمی سطح پر کامیابی برداشت نہیں ہوتی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا مزید کہنا تھا زیارت کے پہاڑوں میں فائرنگ کا تبادلہ چل رہا ہے ، یہ سب کون کروا رہا ہے ، یہ سب بھارت کروا رہا ہے۔ بلوچستان کے ہمارے بچے فتنہ الہندوستان نے یرغمال بنا رکھے تھے ۔

ڈی جی آئی ایس پی آرکا مزید کہنا ہے کہ ملک دشمن عناصر کو پاکستان کی کامیابی ہضم نہیں ہورہی،غیر قانونی افغانیوں کو نکالنے کی بات کریں تو آپ کو تکلیف ہوتی ہے ، ہلاک دہشتگردوں میں زیادہ تر کا تعلق افغانستان سے ہے

معصوم شہریوں اور بہادر سپوتوں کو نشانہ بنانے والوں کو کوئی رعایت نہیں دیں گے، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چار روز کے دوران صوبے میں دہشتگردی کے تین بڑے واقعات پیش آئے، جن میں دہشتگردوں نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے عام شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پہلا واقعہ 4 اور 5 جولائی کی درمیانی شب، دوسرا 6 جولائی جبکہ حالیہ واقعہ منگی ڈیم کوئٹہ پمپنگ اسٹیشن کے علاقے میں پیش آیا۔ دہشتگردوں نے زیارت میں پولیس چیک پوسٹوں کو بھی نشانہ بنایا، جہاں شہید ہونے والے تمام پولیس اہلکار مقامی تھے۔

انہوں نے کہا کہ منگی کے پہلے حملے میں 9 پولیس اہلکار شہید ہوئے، جبکہ بعد ازاں ایک اور حملے میں 18 پولیس اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ آج کے واقعے میں سیکیورٹی فورسز کے 11 جوان بھی شہید ہوئے۔ ان تین بڑے واقعات میں مجموعی طور پر 42 اہلکار وطن کے دفاع میں شہید ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھرپور جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے حالیہ واقعات میں 26 دہشتگرد ہلاک کیے، جبکہ مجموعی کارروائیوں میں اب تک 54 دہشتگرد مارے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کے مکمل خاتمے کے لیے آپریشنز مسلسل جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی دراصل پاکستان کی ترقی ہے اور ریاستِ پاکستان کا مؤقف واضح اور دوٹوک ہے۔ دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر حد تک پیچھا کیا جائے گا اور معصوم شہریوں اور بہادر سپوتوں کو نشانہ بنانے والوں کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ “فتنہ الخوارج” کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نیچا نہیں دکھا سکتی اور کہا کہ “ہم حق پر ہیں، اس جنگ میں ان شاء اللہ ضرور کامیاب ہوں گے۔”