وفاقی حکومت نے ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی سے متعلق پالیسی سازی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی ‘نیشنل پاپولیشن کونسل’ تشکیل دے دی ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق، وزیراعظم پاکستان اس نو تشکیل شدہ کونسل کے چیئرمین ہوں گے، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو کونسل کے کلیدی رکن کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان بھی کونسل کے مستقل ارکان کا حصہ ہیں تاکہ قومی سطح پر اس اہم مسئلے کے حل کے لیے یکساں اور مربوط حکمت عملی اپنائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی سفارتخانے کے باہر احتجاج میں شامل تحسین گیلانی کے بھارتی خفیہ ایجنسی را سے رابطوں کا انکشاف
وفاقی وزرا اور کونسل کی ساخت:
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، کونسل کی ساخت کو انتہائی جامع بنایا گیا ہے جس میں ملکی معیشت، تعلیم اور صحت کے امور سے جڑے اہم ترین وفاقی وزرا کو شامل کیا گیا ہے۔ اس اعلیٰ سطح کی کونسل کے دیگر مستقل ارکان میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، وفاقی وزیر برائے خزانہ و ریونیو، وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن، وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات اور وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی شامل ہیں۔ کونسل کے چیئرمین کو یہ صوابدیدی اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ ضرورت کے مطابق کسی بھی دوسرے وزیر، سیکرٹری یا متعلقہ شعبے کے ماہر کو بطور کوآپٹڈ ممبر کونسل کا حصہ بنا سکیں گے۔
کونسل کے بنیادی مقاصد اور دائرہ کار:
نیشنل پاپولیشن کونسل کے قیام کا بنیادی مقصد ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لیے مؤثر، دوررس اور پائیدار قومی پالیسی مرتب کرنا ہے۔ نوٹیفکیشن کے قواعد و ضوابط کے مطابق، یہ کونسل آبادی پر قابو پانے سے متعلق قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے اور عوامی سطح پر اس مہم کی حمایت کے فروغ کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ کونسل وفاق اور صوبوں کے درمیان آبادی سے متعلق اٹھائے جانے والے تمام تر اقدامات اور پروگراموں میں مکمل ادارہ جاتی ہم آہنگی پیدا کرنے کی بھی ذمہ دار ہوگی۔
مزید پڑھیں: ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ کمانے کا سنہری موقع، نوجوانوں کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
سول سوسائٹی اور علما کا کردار:
ملک گیر پاپولیشن کنٹرول مہم کو نچلی سطح تک کامیاب بنانے کے لیے کونسل کی جانب سے تمام سماجی و مذہبی اسٹیک ہولڈرز کو متحرک کیا جائے گا۔ نوٹیفکیشن کے تحت اس اہم قومی مہم میں مذہبی علما، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور نجی شعبے (پرائیویٹ سیکٹر) کو بھی باقاعدہ طور پر مہم کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ عوامی سطح پر شعور اور آگاہی کو مؤثر طریقے سے پھیلایا جا سکے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ تمام طبقات کی مشترکہ شمولیت اور تعاون سے ہی بڑھتی ہوئی آبادی کے اس بڑے چیلنج سے نمٹا جا سکتا ہے۔





