oil price

عالمی منڈی: خام تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، پٹرول مزید مہنگا ہونے کا امکان

بین الاقوامی مارکیٹ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایران پر امریکی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے توانائی کی عالمی مارکیٹ میں شدید بے چینی بڑھ گئی ہے۔ اس صورتحال اور تیل کی سپلائی سے متعلق پیدا ہونے والے نئے خدشات نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

برینٹ اور امریکی خام تیل کے نرخ:

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کاروباری سرگرمیوں کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.87 ڈالر فی بیرل کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 76.03 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب امریکی خام تیل یعنی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت میں بھی 3 فیصد سے زائد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 72.65 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب نے خام تیل کی قیمتیں گزشتہ پانچ برسوں کی کم ترین سطح پر پہنچا دیں

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی:

مارکیٹ ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی فراہمی اور سپلائی متاثر ہونے کے شدید خدشات پیدا ہوئے ہیں، جس کے براہِ راست نتیجے میں تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں یہ اچانک تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں یہ کشیدگی اسی طرح برقرار رہی یا اس میں مزید اضافہ ہوا تو خام تیل کی قیمتوں میں آنے والے دنوں میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے۔

پاکستان پر ممکنہ معاشی اثرات:

اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو اس کے اثرات دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتوں اور مہنگائی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی صورت میں تیل درآمد کرنے والے ممالک، خصوصاً پاکستان، پر بھی مالی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، جبکہ آئندہ دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی مقامی قیمتوں پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہونے اور پٹرول مہنگا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: اوپیک پلس فیصلے ، خلیجی ممالک سے برآمدات کی بحالی کے بعدعالمی منڈی میں خام تیل سستا