مظفرآباد اور گردونواح میں تجارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق برقرار، بازار اور مارکیٹیں کھل گئیں

دارالحکومت مظفرآباد اور اس کے گرد و نواح میں آج بھی تمام کاروباری مراکز، بازار اور تجارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں۔ خطے میں کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی جانے والی احتجاج اور  ہڑتال کی کال کو عوامی سطح پر مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا ہے، جس کے بعد شہر کے تمام تجارتی علاقوں اور مارکیٹوں میں صبح سویرے ہی دکانیں کھل گئیں، جہاں شہریوں کی جانب سے خریداری کا سلسلہ دیکھا گیا اور تمام کاروباری معاملات پرسکون انداز میں چلتے رہے۔

ٹریفک کی روانی اور پبلک ٹرانسپورٹ:

شہر کے مختلف علاقوں اور اہم شاہراہوں پر دکانیں کھلی رہنے کے ساتھ ساتھ ٹریفک بھی معمول کے مطابق رواں دواں رہی۔ ہڑتال کی کال کو نظرانداز کرتے ہوئے پبلک ٹرانسپورٹ اور نجی گاڑیوں کی بلا تعطل آمد و رفت جاری رہی، جس کے باعث ملازمین، طلبہ اور عام شہریوں کو اپنی منزل مقصود تک پہنچنے میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور زندگی کے تمام شعبے معمول کے مطابق کام کرتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد اور کشمیر بھر میں معمولاتِ زندگی برقرار؛ہڑتال کی کال بری طرح ناکام، بازار اور دفاتر کھل گئے

انتشار اور معاشی نقصان کے خلاف عوامی ردعمل:

مقامی تاجروں اور عام شہریوں نے اس صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں مزید کسی قسم کے انتشار یا معاشی نقصان کے حق میں نہیں ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ امن و امان کا تسلسل ہی آزاد کشمیر کے حقیقی مفاد میں ہے، کیونکہ یہ خطہ کسی بھی نئی بدامنی یا معاشی تعطل کا متحمل نہیں ہوسکتا اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر مسئلے کا حل صرف اور صرف پرامن مذاکرات سے ہی ممکن ہوسکتا ہے۔

انتظامیہ کا دوٹوک مؤقف اور شہریوں کا تحفظ:

ریاستی انتظامیہ نے آزاد کشمیر بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انتظامیہ نے واضح الفاظ میں الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے کی کسی بھی عنصر کو ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور پُرامن شہریوں کے جان و مال سمیت ان کے کاروبار کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

مزید پڑھیں: مسلسل بندشوں سے دیہاڑی دار مزدور فاقہ کشی پر مجبور؛ شہریوں کا احتجاجی سلسلہ ختم کرنے کا مطالبہ