حریت رہنما برہان وانی کا دسواں یومِ شہادت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا

آزادی پسند کشمیری رہنما برہان وانی شہید کا دسواں یومِ شہادت آزاد جموں کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں “یومِ مزاحمتِ کشمیر” کے طور پر انتہائی جوش و جذبے، ملی یکجہتی اور آزادیِ کشمیر کے عزم کی تجدید کے ساتھ منایا گیا۔

اس سلسلے میں پاسبانِ حریت جموں کشمیر کے زیرِ اہتمام برہان وانی شہید چوک میں ایک عظیم الشان تقریب، ریلی اور “دوڑو آزادی کے لیے” کے عنوان سے خصوصی دوڑ کا انعقاد کیا گیا جس میں سینکڑوں افراد شریک ہوئے۔

مرکزی تقریب اور سیاسی قائدین کی شرکت:

اس اہم اور پروقار تقریب میں چیئرمین پاسبانِ حریت جموں کشمیر عزیر احمد غزالی، ترجمان وزیرِ اعظم آزاد کشمیر شوکت جاوید میر، ڈائریکٹر کشمیر سیل راجہ سجاد لطیف خان اور آزادی پسند رہنما عثمان علی ہاشم نے شرکت کی۔ ان کے ہمراہ مہاجرین راہنماؤں راجہ محمد عارف خان، سرانداز میر، محمد یونس میر، محمد فیاض اعوان، محمد اسلم انقلابی، محمد الطاف خان، اسحاق شاہین، راجہ سجید خان، ریاض خان صحرائی، راجہ فاروق خان اور عظمت حیات کشمیری سمیت دیگر سیاسی و سماجی قائدین بھی موجود تھے۔ تقریب کے مقام کو پانچ سو سے زائد کشمیری شہداء کی تصاویر، پاکستان اور آزاد جموں کشمیر کے قومی و ریاستی پرچموں اور آزادیِ کشمیر سے متعلق بینرز سے خصوصی طور پر سجایا گیا تھا، جو تحریکِ آزادی کے جذبے کی عکاسی کر رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈوڈا کشمیر: بادل پھٹنے سے بڑے پیمانے پر تباہی، متعدد مکان ، دکانیں ، گاڑیاں بہہ گئیں

پرچم کشائی، سلامی اور حلف کا مرحلہ:

تقریب کے دوران 313 کشمیری نوجوانوں کے ایک منظم دستے نے پاکستان اور آزاد جموں کشمیر کے قومی و ریاستی پرچموں کو سلامی پیش کی۔ اس موقع پر پاکستان اور کشمیر کے قومی ترانوں کی دھن پر شہدائے کشمیر کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، جبکہ کشمیری نوجوانوں نے مقبوضہ کشمیر کی آزادی، حقِ خودارادیت اور بھارت کے زیرِ قبضہ علاقوں کی آزادی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا عہد دہراتے ہوئے بھارت کے خلاف مزاحمت کا باقاعدہ حلف بھی اٹھایا۔

“دوڑو آزادی کے لیے” مقابلہ اور نعرے:

پروگرام کے دوسرے حصے میں کشمیری نوجوانوں کے درمیان “دوڑو آزادی کے لیے” کے عنوان سے ایک خصوصی دوڑ کے مقابلے کا انعقاد کیا گیا، جو برہان وانی شہید چوک سے شروع ہو کر سرینگر روڈ پر واقع رشید آباد تک جاری رہی۔ دوڑ میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور شرکاء نے “لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ”، “پاکستان سے رشتہ کیا، لا الٰہ الا اللہ”، “برہان تیرے خون سے انقلاب آئے گا” اور “مردہ باد مردہ باد ہندوستان مردہ باد” کے فلک شگاف نعرے بلند کر کے آزادیِ کشمیر کے حق میں اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔

مقررین کا خطاب اور برہان وانی کا مشن:

یومِ مزاحمتِ کشمیر کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ برہان وانی شہید تحریکِ مزاحمتِ کشمیر کا درخشاں استعارہ ہیں، جنہوں نے کم عمری میں بھارتی جبر، ریاستی تشدد اور استبداد کے خلاف مزاحمت کا راستہ اختیار کیا اور نئی نسل کے لیے حریت کی علامت بن گئے۔ انہوں نے جدید ذرائع ابلاغ اور بالخصوص سوشل میڈیا کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر، بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی جانب مبذول کرائی اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ مقررین نے واضح کیا کہ کشمیری قوم بھارتی تسلط کے خلاف اپنی جدوجہدِ آزادی جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے اور شہداء کے مشن کو اس کی منطقی منزل تک پہنچانے کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

مزید پڑھیں: انتخابی مواد کی محفوظ اور بروقت ترسیل ہر صورت یقینی بنائی جائے، چیف الیکشن کمشنر

ادھرآزادی کے بیس کیمپ سمیت لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف رہنے والے کشمیریوں کی جانب سے بھی آج فریڈم فائٹر برہان مظفر وانی کا 10 واں یومِ شہادت نہایت عقیدت اور احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد شہر میں جموں کشمیر لبریشن سیل، آل جموں کشمیر حریت کانفرنس اور پاسبانِ حریت کی جانب سے شہید کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک بڑی ریلی نکالی گئی جس میں شہریوں اور حریت پسندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

پلے کارڈز اور مودی مخالف نعرے بازی:

ریلی کے شرکاء نے احتجاج کے دوران اپنے ہاتھوں میں مختلف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن کے ذریعے شہدائے کشمیر کی تصویریں واضح طور پر آویزاں کی گئی تھیں۔ اس موقع پر شرکاء کی جانب سے مودی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی اور بھارتی مظالم کو بے نقاب کیا گیا۔ ریلی کے دوران “پاکستان زندہ باد” اور “پاک فوج زندہ باد” کے فلک شگاف نعرے بھی بلند کیے گئے، جس سے آزادی کا بیس کیمپ مظفرآباد پوری طرح گونج اٹھا۔