متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں آج یکم جولائی سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا ہے۔ اماراتی حکام کی جانب سے جاری کردہ نئی قیمتوں کے مطابق سپر 98 پیٹرول کی قیمت 3.95 درہم سے کم ہو کر 3.40 درہم فی لیٹر، اسپیشل 95 کی قیمت 3.83 درہم سے گھٹ کر 3.29 درہم فی لیٹر جبکہ ای پلس 91 کی قیمت 3.76 درہم سے کم ہو کر 3.21 درہم فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ڈیزل کی قیمت بھی 4.33 درہم سے کم ہو کر 3.60 درہم فی لیٹر پر پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب، عالمی منڈی میں بدھ کے روز ابتدائی کاروبار کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ ایران کی جانب سے امریکی نمائندوں سے براہِ راست مذاکرات نہ کرنے کا حالیہ اعلان ہے۔
ایندھن کی قیمتوں میں کمی اور اماراتی شہریوں کا ردعمل:
متحدہ عرب امارات میں ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث گزشتہ تقریباً تین ماہ کے دوران متعدد شہریوں نے اپنے سفری معمولات میں واضح تبدیلیاں کی تھیں۔ مہنگے پٹرول کی وجہ سے کئی خاندانوں نے ایک کے بجائے صرف ایک گاڑی استعمال کرنا شروع کر دی تھی جبکہ بعض افراد نے اپنے روزانہ کے سفر میں میٹرو سے بھی مدد لی تاکہ ایندھن پر آنے والے بھاری اخراجات کو کم کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: مارجن نارمل ہونے پر ہی پیٹرول پر عوام کو ریلیف دیں گے،علی پرویز ملک
شارجہ کے علاقے النہدہ میں مقیم سلیمان شیخ، جو روزانہ اپنی ملازمت کے سلسلے میں البرشا آتے جاتے ہیں، کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ نئی قیمتوں کے لاگو ہونے کے بعد اب انہیں ماہانہ تقریباً 235 درہم تک کی بچت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مہنگے ایندھن کے باعث وہ بعض اوقات اپنی گاڑی میٹرو اسٹیشن پر پارک کر کے باقی سفر میٹرو کے ذریعے مکمل کرتے تھے، تاہم اب نئی قیمتوں کے بعد امید ہے کہ انہیں ایسا کم کرنا پڑے گا۔
عوامی تاثرات اور گھریلو اخراجات میں بچت:
اسی طرح دبئی کے علاقے جے ایل ٹی میں رہائش پذیر اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے سے وابستہ فراز ابو حمدان کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان نے بھی گزشتہ چند ماہ کے دوران پٹرول کی قیمتوں کی وجہ سے ایک گاڑی گھر پر ہی کھڑی رکھنا معمول بنالیا تھا۔ ان کے مطابق نئی قیمتوں سے انہیں ہر ماہ تقریباً 240 درہم کی بچت متوقع ہے، جسے وہ اب موسمِ گرما کی تعطیلات اور دیگر گھریلو ضروریات پر آسانی سے خرچ کر سکیں گے۔
متحدہ عرب امارات کے شہریوں اور تارکین وطن نے مجموعی طور پر اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ آنے والے مہینوں میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا، جس سے مہنگائی کے دباؤ میں مزید کمی آئے گی اور گھریلو اخراجات کو متوازن رکھنے میں مدد ملے گی۔
عالمی مارکیٹ کی صورتحال اور خام تیل کی قیمتیں:
اگر عالمی مارکیٹ کا جائزہ لیا جائے تو بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 50 سینٹ یا 0.69 فیصد اضافے کے بعد 73.45 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 63 سینٹ یا 0.91 فیصد اضافے کے ساتھ 70.13 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی صورتحال تیل کی عالمی قیمتوں پر مسلسل اثر انداز ہو رہی ہے۔
اگرچہ حالیہ ہفتوں میں ایران اور امریکا کے درمیان عارضی جنگ بندی کے بعد کشیدگی میں کسی حد تک کمی آئی تھی، تاہم ایران کے تازہ موقف نے مارکیٹ کے سرمایہ کاروں میں دوبارہ بے یقینی پیدا کر دی ہے جس کے باعث مارکیٹ میں قیمتوں پر فوری اثر دیکھا گیا۔
قطر میں سفارتی رابطے اور ایران کا موقف:
سفارتی محاذ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچے جہاں اعلیٰ سطحی مذاکرات متوقع تھے، تاہم ایران اور میزبان ملک قطر نے واضح کر دیا کہ امریکی وفد کی ایرانی حکام سے کوئی براہِ راست ملاقات نہیں ہوگی بلکہ تمام رابطے صرف ثالثوں کے ذریعے ہی کیے جائیں گے۔ اس دوران قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے امریکی وفد سے اہم ملاقات کی جس میں خطے کی مجموعی صورتحال، ایران امریکا تنازع اور توانائی کی عالمی منڈی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مزید پڑھیں: خام تیل کی خریداری پر ایرانی حکام سے رابطے میں ہیں، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز
دوسری جانب، توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سفارتی سطح پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں نسبتی کمی اور آبنائے ہرمز کے دوبارہ معمول کے مطابق کھل جانے سے تیل کی رسد میں رکاوٹ کے خدشات کافی حد تک کم ہوئے ہیں۔ ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس معاملے پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کسی قسم کا ٹول یا اضافی فیس وصول کرنے کی بالکل اجازت نہیں دی جائے گی۔




