خام تیل کی خریداری پر ایرانی حکام سے رابطے میں ہیں، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز

لاہور: وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان خام تیل سمیت توانائی کے شعبے کی دوسری مصنوعات ایران سے حاصل کرنے کے حوالے سے ایرانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ اتوار کو صوبائی دارالحکومت لاہور میں صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران سے خام تیل سمیت توانائی کے شعبے میں جتنی بھی اشیا لے سکا وہ ضرور لے گا، لیکن بنیادی شرط یہ ہے کہ یہ ہمارے فائدے میں ہو۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران ہمارا برادر اور ہمسایہ ملک ہے اور ہم پوری سفارتی و تجارتی کوشش کریں گے کہ اس سے بھرپور فائدہ اُٹھائیں۔ یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حال ہی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکی محکمہ خزانہ نے حال ہی میں ایران کو آئندہ 60 روز کے لیے خام تیل اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی ترسیل اور فروخت کی عارضی اجازت دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے عوام کو 130 ارب روپے کی پٹرولیم سبسڈی دے دی : وفاقی وزیر علی پرویز ملک

ایرانی خام تیل اور تکنیکی مسائل:

ایران سے خام تیل خریدنے سے متعلق اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے علی پرویز ملک کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے پاس موجود خام تیل دراصل بھاری (ہیوی کروڈ آئل) ہے، جس کے استعمال میں کچھ تکنیکی مسائل آتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم اس وقت ایرانی حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں کہ ہم کس طرح سے اِس ہیوی کروڈ آئل کو بلینڈ کر کے پاکستانی عوام کے لیے سستا ایندھن فراہم کر سکتے ہیں، کیونکہ یہ ایک خالصتاً تکنیکی معاملہ ہے۔ یاد رہے کہ ہیوی کروڈ آئل سے فرنس آئل کی زیادہ مقدار پیدا ہوتی ہے۔

ایران کی ریفائننگ صلاحیت اور ایل پی جی کی درآمد:

علی پرویز ملک نے صحافیوں کو مزید بتایا کہ ایران خود بھی پیٹرول اور ڈیزل ترکمانستان اور دیگر ممالک سے باقاعدہ درآمد کرتا ہے، کیونکہ اُن کے پاس اپنا خام تیل صاف کرنے (ریفائننگ) کی زیادہ صلاحیت موجود نہیں ہے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ فی الوقت ہم یومیہ ایران سے تین سے چار ہزار ٹن ایل پی جی درآمد کرتے ہیں اور اب ہماری پوری کوشش ہے کہ اس درآمدی حجم کو مزید بڑھایا جائے تاکہ ملک میں ایل پی جی کی قلت کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں گرتے ہی عوام کو ریلیف دیں گے: علی پرویز ملک

ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کی صورتحال:

صحافیوں کی جانب سے ایران-پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے سے متعلق پوچھے گئے ایک اہم سوال کے جواب میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے واضح کیا کہ یہ گیس پائپ لائن کا معاملہ اِس وقت پیرس کی ثالثی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ حکومت اس حوالے سے تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔