جیونیوز کی حساس ڈاکیومنٹری بنانے اور منظور کرنیوالے افراد برطرف،پیمرا کو آگاہ کردیا

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)جیو نیوز نے پیمرا کی کونسل آف کمپلینٹس کو آگاہ کیا کہ حساس ڈاکیومینٹری بنانے اور اس کو منظور کرنے والے افراد کو نوکری سے برطرف کردیا گیا ہے۔

پیمرا کی جانب سے جیو نیوز کی معطلی کے سلسلے میں کونسل آف کمپلینٹس کے سامنے سماعت کے دوران، جیو نیوز کی لائسنس ہولڈر کمپنی کی طرف سے سپریم کورٹ کے وکیل صائم ہاشمی نے انتظامیہ کی جانب سے غلطی کا غیر مشروط اعتراف کیا اور غیر مشروط معذرت بھی کی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستانی ہیکرز نے بھارتی غرور خاک میں ملادیا، بھارتی چینل ہیک، پاکستانی قومی ترانہ نشر ،پیغامات جاری

جیو نیوز کی نمائندگی کرتے ہوئے صائم ہاشمی اور ہائی کورٹ کے وکیل ارباز خان نےکونسل کے ساتھ تمام متعلقہ دستاویزات بھی شیئرکیں جن میں بتایا گیا کہ جیو نیوز کی انتظامیہ نے ایک فوری انکوائری کے بعد ڈاکیومینٹری بنانےکے ذمہ دار شخص اور ڈاکومینٹری منظور کرنے والی ایڈیٹوریل کمیٹی کے رکن کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔

صائم ہاشمی ایڈووکیٹ نے کونسل کو بتایا کہ مستقبل میں اس قسم کی کسی بھی غلطی کے امکان کو کم سےکم کرنےکیلئے جیو نیوز کی انتظامیہ نے ایک عالم دین کو اپنی ایڈیٹوریل کمیٹی کا حصہ بنانےکا فیصلہ کیا ہے جو نشر کئے جانے والے حساس مذہبی مواد پر نظر رکھ سکیں اور مستقبل میں کسی بھی غلطی کو روک سکیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بی سی سی کی رپورٹ جعلی، شوکت نواز میر کی گرفتاری کی خبروں میں صداقت نہیں ،آزادکشمیر پولیس ذرائع

یہ معاملہ 10 محرم الحرام کو نشر ہونے والی ایک گھنٹے طویل مذہبی سفری دستاویزی فلم سے متعلق ہے۔ اس ڈاکیومینٹری میں افسوسناک طور پر 13 سیکنڈز کے حساس مناظر شامل تھے، جس کی وجہ سے جیو نے پیمرا کے نوٹیفکیشن سے قبل ہی اس ڈاکیومینٹری کو دوبارہ نشر ہونے سے فوری روک دیا تھا اور اس مواد کو ڈیجیٹل میڈیا سے بھی ہٹا دیا گیا تھا۔