آزاد کشمیر میں آئندہ 24سے 36گھنٹوں کے دوران سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس سمیت متعدد اہم سیاسی شخصیات کی استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) میں شمولیت کا امکان ہے ۔
سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس نے پیپلزپارٹی کی جانب سے حلقہ وسطی باغ اور راولاکوٹ سے ٹکٹ نہ ملنے پر پیپلزپارٹی سے راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اپنے گروپ سمیت پیپلزپارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہےاور ان کی اہم ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس کے چار حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع
پاکستان پیپلزپارٹی، مسلم لیگ(ن) کے ایسے امیدوار، جنہیں پارٹی ٹکٹ نہیں ملے وہ بھی متبادل سیاسی پلیٹ فارم کی تلاش میں آئی پی پی کی قیادت سے رابطے میں ہیں ۔
الیکشن شیڈول کے تحت امیدواروں کو 2 جولائی تک اپنی سیاسی جماعت کی جانب سے جاری کردہ پارٹی ٹکٹ یا نامزدگی کا خط جمع کرانا ہوگا، جس کے بعد انہیں متعلقہ جماعت کا انتخابی نشان الاٹ کیا جائے گا۔
سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس جو پیپلزپارٹی کو خیرآباد کہنے جا رہے ہیں نے ٹھان لی ہے کہ اگر مجھے ٹکٹ نہیں ملا تو میں پیپلزپارٹی کو بھی بھرپورسیاسی نقصان پہنچائوں گا۔
سردار تنویر الیاس نے گزشتہ روز پیپلزپارٹی کے ایسے رہنمائوں سے ملاقاتیں کی ہیں جنہیں ٹکٹ نہیں ملے اور ذرائع کے مطابق انہیں اپنے گروپ میں شمولیت کی دعوت کیساتھ بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
سردار تنویر الیاس کا پیپلزپارٹی کو چھوڑنا یقیناً پیپلزپارٹی کیلئے بڑے نقصان کا باعث ہوگا کیونکہ سردار تنویر الیاس کیساتھ کئی اہم رہنما بھی پیپلزپارٹی چھوڑ دینگے جن میں ٹکٹ ہولڈرز بھی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ(ن) کے بھی وہ رہنما جنہیں ٹکٹ نہیں ملے وہ بھی اڑان بھرنے کو تیار ہیںاور استحکام پاکستان پارٹی کی قیادت سے رابطے میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس کا ایک سے زائد حلقوں سے الیکشن لڑنے کا اعلان
سردار تنویر الیاس استحکام پاکستان پارٹی آزادکشمیر کے پہلے بھی صدر رہ چکے ہیں جبکہ کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ سردار تنویر الیاس نے مسلم لیگ (ن) کو وسطی باغ سے ٹکٹ دینے پر شمولیت کی پیشکش کی ہے۔
سردار تنویرالیاس اس امید کیساتھ پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے تھے کہ وسطی باغ سے ٹکٹ ملے گا لیکن اس میں سردار قمر الزمان رکاوٹ بنے جب انہوں نے شرقی باغ سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا۔




