مذاکرات

امریکا ایران پھر کشیدگی کے بعد بڑی پیشرفت ،دوحہ میں منگل کو مذاکرات ہونگے

امریکا اور ایران نے دو روزہ کشیدگی اورحملوں کے بعد ایک دوسرے پر حملے روکنے پر اتفاق کر لیا ہے اور منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات طے پا گئے ہیں۔

امریکی نیوز ویب سائٹ نے ایک سینئر امریکی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور ایران نے ایک دوسرے پر حملے روکنے پر اتفاق کر لیا ہے اور دونوں ممالک نے اس ہفتے مذاکرات کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی فوج نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر ایران کو نشانہ بنایا،ٹرمپ

امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق امریکا اور ایران آبنائے ہرمز کے تنازع کو حل کرنے کے لیے منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ملاقات کرنے پر راضی ہو گئے ہیں۔

اس سے پہلے اعلیٰ ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ حالیہ امریکی حملوں اور مفاہمت کی یادداشت کی شرائط کی خلاف ورزی پر ایران نے اتوار کو ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں حصہ نہیں لیا تھا۔

یاد رہے کہ دو روز قبل آبنائے ہرمز کے قریب تجارتی جہاز پر حملے کے بعد امریکا نے ایران کے سیرک جزیرے پر حملے کرکے فوجی تنصیبات ، میزائل ذخیرے کو نشانہ بنایا تھا جس کے جواب میں ایران نے بھی امریکی اڈوں پر میزائل داغے تھے۔

گزشتہ رات امریکا نے ایک بار پھر ایران پر حملہ کیا اور الزام لگایا تھا کہ ایران نے پاناما کے پرچم بردار جہاز پر حملہ کیا ہے جس کا جواب دیا ہے، امریکی حملوں پر ایران نے کویت اور بحرین میں امریکا کے 8 فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سینٹکام کا ایران پر اضافی فضائی حملوں کا دعویٰ، آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ ممکن ہے کہ ایران کبھی سبق نہیں سیکھے گا، انہوں نے مزید دھمکی دی کہ اگر امریکا کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر مجبور کیا گیاتواسلامی جمہوریہ ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا۔

دوسری طرف ایران کے پاسداران انقلاب نے ردعمل میں کہا تھا کہ کسی بھی جارحیت کا جواب دیا جائیگا اور امریکی اڈوں کو جہنم میں بدل دیں گے۔