آبنائے ہرمز میں ایک بار پھر کشیدگی، ایران نے متعدد امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنا ڈالا

ایران کا کہنا ہے کہ جنوبی ایران کے شہر سیریک کی بندرگاہ کے قریب ایک گولہ آ کر گرا، جس کے جواب میں ایرانی بحریہ نے خطے میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔

تاہم تہران نے یہ نہیں بتایا کہ کن مقامات پر حملہ کیا گیا۔ادھر خطے میں کشیدگی کے باوجود 4 ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کی جانب پیشرفت جاری ہے ۔

ذررائع کے مطابق اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان لڑائی ختم کرنے کے لیے اسرائیل اور لبنان نے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:میرپور: درجنوں تاجرتنظیموں کا کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے لاتعلقی کا اعلان

امریکا نے جمعہ کو آبنائے ہرمز میں ایک مال بردار جہاز پر ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی، جبکہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر گزشتہ ہفتے طے پانے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی طیاروں نے ایران میں میزائل اور ڈرون کی ذخیرہ گاہوں سمیت ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا، بعد ازاں امریکی فوج نے ایک دھماکے کی دھندلی سیاہ و سفید ویڈیو بھی جاری کی، جسے غیر خفیہ‘ قرار دیا گیا، ایک امریکی اہلکار کے مطابق کارروائی مکمل ہو چکی ہے۔

ایران نے کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کو کنٹرول کرے گا اور خلیجی ممالک کو خبردار کیا تھا کہ وہ واشنگٹن کا ساتھ نہ دیں، یہ بیان عمان کے ساحل کے قریب ایک مال بردار جہاز پر حملے کے بعد سامنے آیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ یہ گزشتہ ہفتے ہونے والے عبوری معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی افواج کی جانب سے تجارتی جہاز رانی پر بلاجواز حملہ جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی تھا اور امریکی کارروائی اسی حملے کا ’طاقتور جواب‘ ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:کل سے پورے مظفرآباد میں تمام بازار اور کاروباری مراکز کھل جائیں گے۔تاجر برادری کا اعلان

مزید پڑھیں: ایران امریکا معاہدہ: کیا نیتن یاہو سب سے بڑے سیاسی نقصان اٹھانے والے ثابت ہوں گے؟

امریکی فوج نے یہ بھی کہا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے اپنی معاونت جاری رکھے گی۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا نے جنگ بندی کے معاہدے کی مکمل پاسداری کی ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ایران نے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے اور ہم نے اس کا احترام کیا۔ ’اگر انہیں معاہدے کے نفاذ پر اعتراض ہے تو وہ بات چیت کر سکتے ہیں، لیکن تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔‘