متحرک رہنما فیصل جمیل کشمیری بھی میدان میں آگئے، کاغذات نامزدگی جمع

مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) سول سوسائٹی میں ایک سنجیدہ، باوقار اور فکری آواز متحرک رہنما فیصل جمیل کشمیری نے مظفرآباد سٹی سے اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروادیئے ہیں۔

فیصل جمیل کشمیری کی انتخابی سیاست میں آمد کو شہری حقوق، جمہوری اقدار اور آئینی جدوجہد سے وابستہ حلقوں میں خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔

فیصل جمیل کشمیری گزشتہ کئی برسوں سے جمہوریت، آئین و قانون کی بالادستی، شہری آزادیوں، انسانی حقوق اور آزادیٔ اظہارِ رائے کیلئے سرگرم کردار ادا کرتے آ رہے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد: پانچ حلقوں سے 209 امیدواروں کےکاغذات نامزدگی جمع

فیصل جمیل کشمیری ان چند سماجی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے ہمیشہ دلیل، مکالمے اور آئینی راستوں کو ترجیح دی۔ سنجیدہ سماجی اور سیاسی مسائل کو طنز و مزاح کے منفرد انداز میں اجاگر کرنے کی صلاحیت نے انہیں عوامی حلقوں میں ایک منفرد شناخت عطا کی۔

فیصل جمیل کشمیری نے تین سال تک ایک نہایت اہم اور مؤثر کردار ادا کیا۔ حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں مطالبات کی تیاری، معاہدوں کے مسودات، سرکاری خطوط و جوابات کی تدوین، متعلقہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال اور قانونی و آئینی نکات کی وضاحت جیسے اہم امور میں ان کی خدمات نمایاں رہیں۔

فیصل جمیل کشمیری ان شخصیات میں شامل تھے جو جذباتی بیانات کے بجائے ٹھوس دلائل، دستاویزی شواہد اور آئینی مؤقف کے ذریعے اپنی بات منوانے پر یقین رکھتے ہیں۔

وفاقی حکومت، آزاد کشمیر حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونے والی ہائی پاور مذاکراتی نشستوں میں بھی فیصل جمیل کشمیری شریک رہے۔

ذرائع کے مطابق30 مئی والے آخری مذاکرات کے ایک اہم مرحلے پر جب حکومت کی جانب سے مہاجرین نشستوں کے معاملے پر ریفرنڈم سمیت بعض آئینی و سیاسی آپشنز زیر غور آئے

مزید یہ بھی پڑھیں:مذاکرات کامیاب ،سینیٹرمشتاق خان نے راولا کوٹ جانے کا فیصلہ ترک کردیا،حکومت آزادکشمیر

دوسری جانب ایکشن کمیٹی کے بعض رہنماؤں نے ان تمام آپشنز کو مسترد کرتے ہوئے 9جون کے مظفرآباد مارچ کے فیصلے پر اصرار کیا تو فیصل جمیل کشمیری نے اس طرزِ عمل سے اختلاف کیا۔

ذرائع کے مطابق فیصل جمیل کشمیری نے اپنے ساتھیوں کے مؤقف سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے مذاکرات کے آخری مرحلے کا بائیکاٹ کیا اور اس کے بعد تحریک کی کسی سرگرمی میں متحرک نہیں رہے ۔

کور کمیٹی کے اجلاسوں میں بھی وہ بارہا اس مؤقف کا اظہار کرتے رہے کہ عوامی مسائل کا دیرپا حل سڑکوں پر محاذ آرائی کے بجائے سیاسی عمل، انتخابی سیاست اور عوامی مینڈیٹ کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

وہ طویل شٹرڈاؤن ہڑتالوں، مسلسل احتجاجی مارچوں اور ایسے اقدامات کے ممکنہ سماجی، معاشی اور سیاسی نقصانات کی نشاندہی کرتے رہے اور اپنے ساتھیوں کو آئینی و جمہوری راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیتے رہے۔

اب فیصل جمیل کشمیری نے خود انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ کرتے ہوئے عوام کی عدالت سے رجوع کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر شہری حقوق، عوامی مفادات اور جمہوری اقدار کے لیے جدوجہد کرنی ہے تو اس کا سب سے مؤثر اور جائز راستہ عوامی مینڈیٹ کا حصول ہے۔ اسی سوچ کے تحت وہ مظفرآباد کے عوام سے ووٹ کی طاقت کے ذریعے اعتماد مانگ رہے ہیں۔

فیصل جمیل کشمیری کی انتخابی سیاست میں آمد دراصل ایک ایسے فکر و نظریے کی نمائندگی کرتی ہے جو احتجاج کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے بھی مسائل حل کیلئے مکالمے، جمہوری عمل، عوامی مینڈیٹ اور آئینی راستوں کو ہی پائیدار اور مؤثر ذریعہ سمجھتا ہے۔