اسلام آباد: آل جموں و کشمیر مرکزی جمعیت اہل حدیث اور پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر کے مابین آئندہ انتخابات کے سلسلہ میں باضابطہ انتخابی اتحاد کا اعلان کر دیا گیا ۔
اس حوالہ سے دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت اور ذمہ داران کے مابین گزشتہ 2ماہ سے جاری مشاورت اور متعدد اہم اجلاسوں کے بعد اسلام آباد میں ایک حتمی نشست منعقد ہوئی، جس میں باہمی اتفاقِ رائے سے آزاد جموں و کشمیر کے وسیع تر قومی، ملی، دینی اور عوامی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے انتخابی اتحاد کو حتمی شکل دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:سابق وزیرحکومت بیگم امتیاز نسیم ن لیگ میں شامل، مشتاق منہاس کی پوزیشن مستحکم
اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ آزاد جموں و کشمیر کو درپیش سیاسی، معاشی، سماجی اور انتظامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہم آہنگ اور مؤثر قیادت کی ضرورت ہے۔
دونوں جماعتوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عوام کو بنیادی حقوق اور ضروری سہولیات کی فراہمی، میرٹ اور شفافیت کے فروغ، گڈ گورننس کے قیام، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، تعلیمی و صحت کے شعبوں کی بہتری اور خطے کی پائیدار ترقی کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں گی۔
ملاقات میں آزاد جموں و کشمیر میں اسلامی اقدار کے فروغ، اسلامائزیشن کے نفاذ، دینی تشخص کے تحفظ، نظریہ الحاقِ پاکستان کے استحکام اور قومی یکجہتی کے فروغ پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے اور تحریکِ آزادی کشمیر کو مزید موثر انداز میں اجاگر کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر میں جاری نظریاتی کشمکش کے خاتمے، پاکستان اور کشمیری عوام کے درمیان قائم لازوال رشتے کے مزید استحکام اور فروغ، اور اس تعلق کو کمزور کرنے یا اس میں کسی بھی قسم کی دراڑ ڈالنے کی کوشش کرنے والے عناصر کے خلاف مشترکہ اور موثر جدوجہد کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔
دونوں جماعتوں نے اس بات پر زور دیا کہ نظریۂ پاکستان، قومی وحدت اور کشمیری عوام کے پاکستان سے قلبی، تاریخی اور نظریاتی تعلق کا تحفظ ان کی مشترکہ ترجیحات میں شامل ہے۔
دونوں جماعتوں کی قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا کہ انتخابی اتحاد کا بنیادی مقصد اقتدار کا حصول نہیں بلکہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام کی خدمت، خطے کی تعمیر و ترقی، عوامی فلاح و بہبود، ریاستی اداروں کی مضبوطی، قانون کی بالادستی اور ایک خوشحال، مستحکم اور فلاحی ریاست کے قیام کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنا ہے۔
اجلاس کے شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ اتحاد آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں مثبت، تعمیری اور اصولی کردار ادا کرتے ہوئے عوام کی توقعات پر پورا اترے گا، ریاست میں سیاسی استحکام اور قومی ہم آہنگی کے فروغ کا ذریعہ بنے گا اور آزاد جموں و کشمیر کے روشن مستقبل کی مضبوط بنیاد ثابت ہوگا۔
اس اہم اجلاس میں آل جموں و کشمیر مرکزی جمعیت اہل حدیث کی جانب سے سینئرنائب امیر مولانا سید عتیق الرحمن شاہ، ناظم اعلیٰ دانیال شہاب مدنی، سرپرست جماعت مولانا محی الدین اثری، نائب امراء مولانا ابو بکر صدیق حنیف اور محمد ادریس مغل ایڈووکیٹ، امیر ضلع مظفرآباد مولانا زاہد اثری، نائب امیر مولانا عصمت اللہ عاصم، کونسلر مولانا فضل الرحمن فاروقی، امیر ضلع نیلم مولانا سجاد احمد عسکری، چیئرمین الانصار ویلفیئر ٹرسٹ عبدالشکور آزاد، سوشل میڈیا کے زمہ داران حافظ قمر فولادی، محمد عابد اور دیگر جماعتی ذمہ داران شریک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان انتخابات،سرکاری نتائج کا اعلان، پیپلزپارٹی کو بڑا جھٹکا لگ گیا
پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر شاہ غلام قادر اور سینئر نائب صدر مشتاق منہاس ، سیکرٹری جنرل مسلم لیگ ن ضلع نیلم رانانصیر محمدی شریک ہوئے۔
اجلاس میں آل جموں و کشمیر مرکزی جمعیت اہل حدیث کے امیر مولانا محمد صدیق صدیقی صحت کی ناسازی کے باعث شریک نہ ہو سکے، تاہم انہوں نے انتخابی اتحاد کے فیصلے کی مکمل تائید کرتے ہوئے اسے آزاد جموں و کشمیر کے عوام، نظریۂ پاکستان اور ریاست کے روشن مستقبل کے لیے ایک مثبت اور اہم پیش رفت قرار دیا۔
دونوں جماعتوں کی قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انتخابی اتحاد باہمی احترام، اعتماد، مشاورت اور مشترکہ قومی و دینی مقاصد کے تحت آگے بڑھایا جائے گا اور آئندہ انتخابات میں عوام کے سامنے ایک مضبوط، مؤثر اور قابلِ عمل متبادل پیش کیا جائے گا۔




