الیکشن کمیشن نےگلگت بلتستان انتخابات کےسرکاری نتائج کا اعلان کردیا۔الیکشن کمیشن کی جانب سے 24 میں سے 21 حلقوں کے سرکاری نتائج کا اعلان کیاگیا ہے جبکہ 9 مخصوص نشستیں بھی الاٹ کردی گئی ہیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں پیپلزپارٹی کو شدید جھٹکا لگا ہے ، جی بی اے 16دیامر 2سے آزادامیدوارامام مالک جو گزشتہ روز ہی استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہوئے ہیں کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان میں ڈرامائی تبدیلی،4آزاد ارکان استحکام پارٹی میں شامل، مزید 2سیٹیں بھی ملنے کا امکان
پہلے اسی نشست پر پیپلزپارٹی کے امیدوار عطااللہ کامیاب قرار پائے تھے۔ پیپلزپارٹی نے گزشتہ روز پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ رکن نیک کریم کو بھی پارٹی میں شامل کیا تھا لیکن پیپلزپارٹی کی ایک نشست ادھر سے استحکام پاکستان پارٹی نے چھین لی ہے۔
دوسری طرف جی بی اے 9 اسکردو سے کامیاب ہونیوالے فدامحمد ناشاد کیخلاف سپریم اپیلیٹ کورٹ میں دائر ہونیوالی درخواست میں ان کے حتمی نتائج رک گئے ہیں،جی بی اے 17سے پیپلزپارٹی کے رکن محمد نسیم کے حتمی نتائج بھی عدالتی فیصلے کے باعث روک لئے گئے ہیں۔
جی بی اے 15 دیامر 1 سےاستحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہونیوالےمحمد دلپذیر کے حتمی نتائج بھی سپریم اپیلیٹ کورٹ کے فیصلے پر روک لئے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جنرل نشستوں پر پیپلزپارٹی9 ، مسلم لیگ (ن) ،6 آئی پی پی 4، ایم ڈبلیو ایم 1 اور آزاد امیدوار 1نشست پرکامیاب ہوئے۔
خواتین6، ٹیکنوکریٹ کی3نشستیں پی پی، ن لیگ، آئی پی پی کو الاٹ
دوسری طرف خواتین کی 6اور ٹیکنوکریٹ کی3نشستیں 3پارٹیوں کو الاٹ کردی گئی ہیں،الیکشن کمیشن کے مطابق خواتین کی 6 مخصوص نشستوں میں سے 3 پیپلزپارٹی، 2 ن لیگ اور ایک آئی پی پی کےحصے میں آئی۔

ٹیکنوکریٹ کی 3 نشستوں میں سے پیپلزپارٹی، ن لیگ اور آئی پی پی کو ایک ایک نشست ملی۔
پیپلزپارٹی کی کلثوم جہانگیر،سابق ڈپٹی سپیکرسعدیہ دانش اور صوبیہ مقدم مخصوص نشست پر کامیاب قرار پائی ہیں جبکہ مسلم لیگ کی ساجدہ بیگم اور جینیفر بہادر کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔
استحکام پاکستان کی دلشاد بانوبھی رکن اسمبلی منتخب ہو گئی ہیں۔
ٹیکنوکریٹ کی نشستیں محمد شریف (پیپلزپارٹی)، صاحب خان (مسلم لیگ ن) اور محمد علی (استحکام پاکستان پارٹی) کو دی گئی ہیں۔




