پاکستان کی 19 سالہ ہونہار باکسر فاطمہ زہرا نے گلاسگو میں منعقدہ کامن ویلتھ گیمز کی باکسنگ کیٹگری (60 کلوگرام) میں کانسی کا تمغہ جیت کر تاریخ رقم کر دی ہے۔ وہ کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کے لیے باکسنگ میں میڈل حاصل کرنے والی پہلی خاتون باکسر بن گئی ہیں۔ وطن واپسی کے بعدایک نجی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اپنے اس تاریخی اور جذباتی سفر کے احوال سے آگاہ کیا۔
فاطمہ زہرا نے بتایا کہ نیوزی لینڈ کی جارڈن ولسن کے خلاف کوارٹر فائنل کے اہم مقابلے میں وہ ہاتھ کی شدید انجری کے ساتھ رنگ میں اتری تھیں۔ انہوں نے اس فائٹ کو زندگی کی ‘آخری فائٹ’ سمجھ کر کھیلا، کیونکہ اس مقابلے پر ان کا پورا کیریئر اور پاکستان کے لیے پہلا میڈل انحصار کر رہا تھا۔ انہوں نے نیوزی لینڈ کی باؤٹر کو 0-5 سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی، جہاں سیمی فائنل ہارنے کے باوجود قوانین کے تحت ان کا برونز میڈل یقینی ہو چکا تھا۔ بعد ازاں سیمی فائنل میں انہیں کینیڈا کی میری ال مہدیہ کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: کامن ویلتھ گیمز ، پاکستانی باکسر فاطمہ زہرا نے تاریخ رقم کردی
بھارتی فلم سے متاثر ہو کر باکسنگ کا آغاز:
سرگودھا یونیورسٹی میں تیسرے سمسٹر کی طالبہ فاطمہ زہرا نے صرف 16 سال کی عمر میں باکسنگ کا آغاز کیا تھا۔ وہ بھارتی باکسر میری کوم کی زندگی پر بننے والی فلم سے بے حد متاثر ہوئیں اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ پاکستان میں لڑکیوں کے حوالے سے قائم اس ڈر کو ختم کریں گی کہ “پاکستانی لڑکیاں میڈل نہیں جیت سکتیں”۔
خاندانی اور سماجی مشکلات کا سامنا:
فاطمہ کے والد ثاقب رضا، جو ڈسٹرکٹ ٹیچنگ ہسپتال سرگودھا میں کلاس فور کے ملازم ہیں اور ماضی میں خود مارشل آرٹس سے منسلک رہے ہیں، نے بتایا کہ شروعات میں لوکل سطح پر لوگوں کی تنقید، کپڑوں اور ورزش پر اعتراضات کی وجہ سے شدید مشکلات آئیں، جس کی وجہ سے فیملی کافی پریشان رہی اور کچھ عرصے کے لیے کھیل پر روک بھی لگی۔ تاہم، انہوں نے بیٹی کی منزل کو بڑا سمجھتے ہوئے خود دونوں بیٹیوں کی ٹریننگ کروائی۔
کوچ کا مطالبہ اور اولمپکس کا خواب:
فاطمہ کے کوچ راحیل عدنان کا کہنا تھا کہ سرگودھا کے کلب میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے جہاں سے 5 انٹرنیشنل کھلاڑی نکل چکے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ سرگودھا میں جدید آلات اور ٹریننگ کی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ یہاں کے کھلاڑی آنے والے اولمپک گیمز میں پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیت سکیں۔




