صدر آصف علی زرداری کی جانب سے بھارت میں مسلمانوں کے تاریخی مقامات اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے دئیے گئے ایک بیان نے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک نیا ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے۔
صدر آصف زرداری کے اس بیان پر بھارتی حکومت شدید سیخ پا ہو گئی ہے۔
یہ پورا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب صدر آصف علی زرداری نے بھارت میں صدیوں پرانی مساجد کو گرائے جانے کی خبروں پر اپنے گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی انٹیلیجنس ایجنسی را کا جعلی ٹویٹر اکاؤنٹ اسلام آباد پوسٹ ہمیشہ کے لیے بند
صدرِ پاکستان کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری کئے گئے ایک پیغام میں صدر آصف علی زرداری نے واضح طور پر کہا کہ بھارت میں تاریخی مسلم مذہبی مقامات کو مسمار کرنے اور انہیں پہنچنے والے خطرات پر گہری تشویش ہے۔
انہوں نے وارانسی میں موجود ایک ہزار سال پرانی مسجد گنج شہیداں کی مثال دیتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے اقدامات کو فوری طور پر روکے۔
صدر زرداری نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایسے اقدامات بھارت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور وہاں مستقل افراتفری پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری اور بھارت پر زور دیا کہ وہاں رہنے والی اقلیتوں کے حقوق اور مشترکہ ثقافتی ورثے کا ہر حال میں تحفظ کیا جائے۔
صدر آصف علی زرداری کے اس سخت اور دوٹوک بیان کے سامنے آتے ہی بھارتی وزارتِ خارجہ تلملا اٹھی اور انہوں نے اس بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے پاکستانی صدر پر کڑی تنقید کی۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزی،پاکستان نے سلامتی کونسل کو خط لکھ دیا
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتے کے روز ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں پاکستانی صدر کے ریمارکس کو بلاجواز قرار دیا اور کہا کہ پاکستانی صدر کو بھارت کے اندرونی معاملات پر بات کرنے کا کوئی قانونی یا اخلاقی حق حاصل نہیں ہے۔
پاکستان کے اس اقدام کو عوامی سطح پر ایک جرات مندانہ قدم دیکھا جا رہا ہے جہاں پاکستان نے ہمسایہ ملک میں اقلیتوں پر ہونے والے مبینہ مظالم کے خلاف آواز اٹھائی ہے، جبکہ بھارت اس بحث کو روکنے کے لیے پاکستان کے اپنے اندرونی مسائل کا سہارا لے رہا ہے۔




