سینئر صحافی طلعت حسین ایران ،امریکہ کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستانی اقدامات سامنے لے آئے

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) سینئر صحافی طلعت حسین ایران، امریکہ کشیدگی کے دوران پاکستان کی جانب سے امن کیلئے 14اہم ترین اقدامات سامنے لے آئے ۔

سینئر صحافی طلعت حسین نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (ٹویٹر ) پر ان اقدامات کے حوالے سے لکھا کہ پاکستان کے ان اقداما ت کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران، امریکہ اور خلیجی خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور جنگ کے بادلوں کو چھانٹنے میں پاکستان نے پسِ پردہ ایسا تاریخی اور کلیدی سفارتی کردار ادا کیا جس کی گونج اب عالمی سطح پر سنائی دے رہی ہے۔

سینئر صحافی نے پاکستان کی اس سنسنی خیز اور غیر معمولی سفارتی کامیابی کے 14 اہم ترین نکات کی تفصیل پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملوں کے پہلے ہی مرحلے میں، پاکستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جس نے جنگ کے بجائے فوری طور پر امن مذاکرات کا مطالبہ کیا۔

پاکستان نے کسی بھی بلاک کا حصہ بنے بغیر طاقت کے استعمال کی کھل کر مذمت کی اور ایک انتہائی نازک سفارتی توازن برقرار رکھا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد معاہدہ پر دستخط، تکنیکی مذاکرات شروع ہونے کے باعث شہبازشریف کا دورہ سوئٹزرلینڈ موخر

جب کوئی بھی ملک واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی تو دور بات چیت کیلئے بھی آگے بڑھنے کو تیار نہیں تھااس وقت پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے ساتھ بیک ڈور ڈپلومیسی کا آغاز کیا۔

پاکستان نے نہ صرف امن کی پیشکش کی بلکہ تہران اور واشنگٹن کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ کم از کم امن کی گفتگو کا آغازتو کریں۔

پاکستان نے تہران،واشنگٹن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی اسرائیلی کوششوں، اور غزہ و لبنان میں جاری بربریت کی کھل کر مذمت کی۔ مودی اور نیتن یاہو کے گٹھ جوڑکے سامنے جھکنے کے بجائے اصولوں پر مبنی سیاست کا مظاہرہ کیا۔

بھارت، طالبان اور دہشتگردی جیسے ہاٹ فرنٹ اور سنگین خطرات سے نمٹنے کے باوجود پاکستانی قیادت نے اس عالمی بحران کو حل کرنے کیلئے انتھک محنت کی اور طویل گھنٹے صرف کئے۔

پاکستان نے نہ صرف امن کی پیشکش کی بلکہ تہران اور واشنگٹن کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ کم از کم امن کی گفتگو کا آغاز کریں۔

جب دونوں اطراف کے رہنماؤں کے تلخ بیانات نے انہیں سفارتی طور پر بند گلی میں دھکیل دیا تو پاکستانی قیادت نے صدر ٹرمپ اور ایرانی قیادت کو کئی ایسے سفارتی راستے فراہم کئے جس سے مذاکراتی عمل کو زندہ رکھا ۔

امن کی شمع جلائے رکھنے کیلئے پاکستان نے غیر معمولی اقدامات کئے۔ عسکری قیادت نے کئی روز ایران میں گزارے، وزیر خارجہ نے ایرانی سپریم لیڈر کو خط بھیجا، اور وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ٹرمپ سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔

پاکستان نے دونوں فریقین کیلئے قابلِ قبول بیانات اور یہاں تک کہ مفاہمت کی یادداشت کا متن تیار کرنے میں براہ راست مدد فراہم کی۔

پاکستان نے اکیلے کریڈٹ لینے کی کوشش نہیں کی بلکہ دیگر ممالک کو بھی اس ثالثی عمل میں مدد کی کھلی اجازت دی۔

جعلی خبروں اور اندرونی معلومات کے لیک ہونے کے اس مذاکراتی دور میں پاکستان نے پورے عمل کے دوران ایک بھی معلومات یا دستاویز کو لیک نہیں ہونے دیا۔

پاکستان نے سارا بھاری کام خودکرنے کے باوجود میڈیا پر خود کو لوپروفائل رکھا اور تشہیر سے دور رہا۔

پاکستان نے روایتی دوستوں کی طرف سے آنے والے سخت اور ناروا پالیسی بیانات کے باوجود تحمل کا دامن نہیں چھوڑا اور یو اے ای اور ایران کے متضاد مفادات کے درمیان توازن پیدا کیا۔

جب بھی واشنگٹن یا تہران میں مایوسی پھیلی، پاکستان نے ان کے حوصلے بلند کیے۔ فریقین کے تحفظات کے مطابق آن لائن دستخط جیسے لچکدار راستے نکالے اور مسلسل یہ باور کرایا کہ اصل ہدف معاہدہ ہے، راستہ لچکدار ہو سکتا ہے۔