اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں مسائل پیدا کئے جارہے ہیں، دھرنوں اور احتجاج سے پاکستان کی ساکھ اور کشمیر کاز کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھاکہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی غیر مشروط سرنڈر اور احتجاج ختم کرتی ہے تو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جاسکتا ہے۔
بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب میں آزاد کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آزاد کشمیر میںاشیاء خورونوش کی قلت ہورہی ہے۔
بلاول بھٹو نے مطالبہ کیا قانون ہاتھ میں لینے والوں کو پولیس کے حوالے کیا جائے، پولیس ایکشن لے، ساتھ ہی پیغام دیا اس سے پہلےکہ ہمیں زبردستی کرنا پڑے قانون توڑنے والوں سے مظاہرین خود کو الگ کرلیں احتجاج کرنیوالے اپنی صفوں سے انتہا پسندوں کو الگ کریں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سینئر صحافی طلعت حسین ایران ،امریکہ کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستانی اقدامات سامنے لے آئے
چیئرمین پیپلز پارٹی نےکہا مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ زیادہ متنازع ہو گیا ہے، یہ ایسا معاملہ نہیں جو حل نہ ہو سکے، مہاجرین کی نشستیں بندوق کے زور پر ختم نہیں ہو سکتیں۔
ہمارا اصولی موقف ہے کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیری ہی کریں گے، مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ دھمکیوں اور دھرنےکے بجائے بات چیت اور قانون سازی سے حل ہوگا۔
اس معاملے پر جتنا ایکشن کمیٹی کا حق ہے اتنا ہی مسلم کانفرنس اور دوسری جماعتوں کا حق ہے۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدہ اسی فیصد مکمل تھا ہم مذاکرات سے انکاری نہیں ہیں، پُرامن طریقے سے سیاسی انداز میں مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے،
انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کا حل پاکستان کے دائرے میں رکھیں۔مہاجرین کو ووٹ کا حق بھی دیا جانا چاہیے، اس پر کوئی رکاوٹ نہیں، اس طریقے سے دھمکیاں دے کر معاملہ مزید خراب کیا جا رہا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کالعدم ایکشن کمیٹی کے 154لیڈروں ،ممبران کیخلاف سخت ایکشن، بینک اکائونٹس، شناختی کارڈمنجمد
بلاول کا مزید کہنا تھا کہ میں زور دیتا ہوں کہ ایکشن کمیٹی سیاسی انداز میں معاملہ حل کرنے کی طرف جائے۔آزاد کشمیر کو آزاد دیکھنا چاہتا ہوں میں اسے مقبوضہ کشمیر بنتا نہیں دیکھنا چاہتا، اس معاملےکو ایک مرتبہ مکمل حل کرلینا چاہیے۔
بار بار وہاں کے عوام کو یرغمال نہیں بننے دینا چاہیے، مخصوص سیٹوں کی طرح مہاجرین کی سیٹوں کے معاملے پر نتائج کے تناسب سے نمائندگی دی جائے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے مزید کہا آزاد کشمیر کے چیلنجوں کا بھی مقابلہ کرنا ہے، اگر کوئی قانون ہاتھ میں لے، ریاست کو نشانہ بنائے تو ایکشن ہوگا۔




