اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) پاکستان نے عالمی سفارت کاری کے میدان میں وہ تاریخی کارنامہ انجام دے دیا ہے جس کی کسی کو توقع نہ تھی۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سوئٹزرلینڈ روانہ ہونا تھا۔ جو کہ اب منسوخ ہوگیا ہے ۔ایران امریکہ معاہدے کے مطابق ابتدائی مذاکرات کل برگن اسٹاک ریزورٹ میں ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں طے پانے والی ایک انتہائی اہم اور حساس مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر تمام فریقین نے الیکٹرانک طور پر دستخط کر دیئے جس کے بعد یہ معاہدہ باقاعدہ نافذ العمل ہو چکا ہے اور اس پر عمل درآمد کا آغاز بھی ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، جب سیاسی اور سفارتی پیشرفت اعلیٰ ترین سطح پر حاصل کر لی جائے تو محض رسمی دورے نظم و ضبط کی پیروی کو یقینی بنانے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔
پاکستان کا بنیادی کردار تمام فریقین کو ایک متفقہ فریم ورک فراہم کرنا، بحران کی شدت کو کم کرنا اور عمل درآمد کے لیے ایک منظم راستہ بنانا تھا، اور ملک نے یہ عظیم مقصد کامیابی سے حاصل کر لیا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر اسمبلی: سفید پوش سادات کی مالی امداد، پروفیسر کوثر تقدیس گیلانی کی قراردادمنظور
اعلیٰ ترین سطح پر سیاسی پیش رفت حاصل ہونے کے بعد اب کسی رسمی دورے کی ضرورت اتنی اہم نہیں رہی جتنی کہ اس معاہدے پر باقاعدگی اور نظم و ضبط کے ساتھ عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔
پاکستان کا بنیادی کردار ایک متفقہ فریم ورک فراہم کرنا، بحران کی شدت کو کم کرنا، اور آگے بڑھنے کے لیے ایک منظم راستہ بنانا تھا، اور یہ بنیادی مقصد اب مکمل طور پر حاصل کر لیا گیا ہے۔
Islamabad :18 June 2026.
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif received a telephone call from His Excellency Dr. Masoud Pezeshkian, President of the Islamic Republic of Iran, this afternoon, that lasted over thirty minutes.
This was the first contact between the two leaders… pic.twitter.com/ukkFWYy975
— Prime Minister's Office (@PakPMO) June 18, 2026
اگلا مرحلہ ماہرین کی سطح کے کام کے ساتھ اب مختلف تکنیکی شعبوں میں آگے بڑھے گا۔ اس پیشرفت سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام آباد نے صرف روایتی میزبانی یا فوٹو سیشن نہیں کئے بلکہ ایک جامع فریم ورک کو عملی شکل دی ہے۔ جس کا بنیادی پیغام بالکل واضح ہے۔
رسمی دورہ صرف اس لیے ملتوی کیا گیا کیونکہ سفارت کاری رنگ لے آئی ہے، معاہدہ پوری طرح نافذ العمل ہوچکا ہے، اور پاکستان اس معاہدے کے نفاذ میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے معاہدے پر دستخط کردیئے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سوئٹزرلینڈ کینسل نہیں ھوا آن ہولڈ ھے سنئیر صحافی طلعت حسین کے مطابق ممکن ھے ایران امریکہ کے درمیان معاہدہ ھونے کے بعد مذاکرات کا پہلا دور سوئٹزرلینڈ میں ھو جائے اُس میں وزیراعظم شہباز شریف شرکت کریں
— Muzamil (@muzamil_45) June 18, 2026
وزیراعظم شہباز شریف کے بھی بطور ثالث معاہدے پر دستخط موجود ہیں، پاکستان نے بطور ثالث معاہدے کی توثیق کردی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ معاہدہ خطے میں امن اور استحکام کی بنیاد ثابت ہوگا، پیش رفت ممکن بنانے اور امن و علاقائی استحکام آگے بڑھانے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک محنت نہایت اہم رہی۔
وزیراعظم نے معاہدے پر صدر ٹرمپ ، سپریم لیڈر آیت اللّٰہ مجتبیٰ خامنہ ای اور ایرانی صدر کو مبارک باد بھی دی۔




