رانا ثناء اللہ

رانا ثناء اللہ نے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر سنگین الزامات عائد کر دئیے

وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی رانا ثناء اللہ نے ایک نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے موجودہ سیاسی صورتحال پر حکومتی موقف واضح کیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ قانون کے دائرے میں رہ کر پرامن احتجاج کرنا اور لانگ مارچ نکالنا ہر شہری کا آئینی اور جمہوری حق ہے، اور حکومت اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی ۔

تاہم، انہوں نے سختی سے خبردار کیا کہ احتجاج کے نام پر کسی بھی قسم کی مسلح کارروائی یا طاقت کے زور پر مظفرآباد پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔ ریاست اپنی رٹ قائم رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی ۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کی آزادی اور تحریکِ آزادی لاکھوں شہداء کی عظیم قربانیوں کا نتیجہ ہے ۔ اس تحریک کو خون دے کر سینچا گیا ہے، اس لیے کسی بھی احتجاجی کمیٹی کے غیر آئینی مطالبے پر ان قربانیوں کو ضائع نہیں ہونے دیا جا سکتا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مہنگائی سے متاثرہ عوام کو ہر ممکن ریلیف دیں گے، رانا ثناء اللہ کا بڑا اعلان

انہوں نے انکشاف کیا کہ حکومت نے مظاہرین کے ساتھ لچک کا مظاہرہ کیا اور انہیں ہر ممکنہ اور جائز پیشکش کی، لیکن ایکشن کمیٹی کے رہنما مسلسل ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے رہے اور انہوں نے حکومت کی تمام پرامن پیشکشوں کو ٹھکرا دیا ۔

انہوں نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس کالعدم تنظیم کو بیرونِ ملک بیٹھی ہوئی پاکستان دشمن قوتوں کی مالی امداد اور مکمل پشت پناہی حاصل ہے ۔

رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ شروع میں اس کمیٹی کے مطالبات صرف مہنگائی، آٹے اور بجلی کی قیمتوں تک محدود تھے اور ان میں مہاجرین کی نشستوں کو ختم کرنے کا کوئی ذکر نہیں تھا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آئندہ 48 گھنٹے اہم ،فیلڈ مارشل کے دورہ ایران سے متعلق دنیا کیلئے اچھا پیغام جائیگا،رانا ثناء اللہ

اب اس ایکشن کمیٹی نے اراکینِ اسمبلی کے حلف نامے سے “پاکستان کے ساتھ الحاق کی شرط کو ختم کرنے کا انتہائی خطرناک اور ملک دشمن مطالبہ بھی سامنے رکھ دیا ہے، جسے کسی صورت تسلیم نہیں کیا جا سکتا ۔