وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کا سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے بیان پر ردعمل سامنے آگیا ہے اور امیر مقام بھی پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری یاسین کے حلقے کے ثبوت سامنے لے آئےہیں۔
انجینئر امیر مقام نے کہا کہ راجہ پرویز اشرف ہمارے 25 سالہ ساتھی ہیں، ان سے احترام اور محبت کا رشتہ ہے، مگر حقائق مکمل دیکھنے چاہئیں،صرف چند پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج پیش کرنا درست تاثر نہیں، پورے حلقے کا رزلٹ دیکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈریں اس وقت سے جب ہم کہیں یہ الیکشن نہیں مانتے، بلاول بھٹو نے انتباہ
2021 کے انتخابات میں بھی یہی حلقہ مسلم لیگ (ن) تقریبا 1100 سے 1200 ووٹوں سے ہاری تھی، تاریخ کو بھی سامنے رکھا جائے، اگر صرف ایک طرف کے ہوم پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج کو معیار بنایا جائے تو تصویر ادھوری رہ جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چوہدری یاسین کے آبائی پولنگ اسٹیشنوں پر پیپلز پارٹی کو بھاری برتری حاصل رہی، نتائج ریکارڈ پر موجود ہیں،پولنگ اسٹیشن نمبر 91 میں پیپلز پارٹی کو 330 جبکہ مسلم لیگ (ن) کو 67 ووٹ ملے، ٹرن آؤٹ 96 فیصد رہا۔
پولنگ اسٹیشن نمبر 95 میں پیپلز پارٹی نے 434 ووٹ حاصل کیے، مسلم لیگ (ن) کو ایک بھی ووٹ نہ ملا،ڈسپنسری پولنگ اسٹیشن پر پیپلز پارٹی کو 624 جبکہ مسلم لیگ (ن) کو 35 ووٹ ملے، ٹرن آؤٹ 95 فیصد سے زائد رہا۔
انہوں نے کہا کہ ایک پولنگ اسٹیشن پر پیپلز پارٹی کو 550 ووٹ جبکہ مسلم لیگ (ن) کو 35 ووٹ ملے،ہائیر سیکنڈری سکول پولنگ اسٹیشن پر چوہدری یاسین کو 750 جبکہ مسلم لیگ (ن) کو صرف 30 ووٹ ملے۔
پولنگ اسٹیشن نمبر 100 پر بھی پیپلز پارٹی نے 750 ووٹ حاصل کیے جبکہ مسلم لیگ (ن) کو 30 ووٹ ملے۔چوک صاحبان پولنگ اسٹیشن پر پیپلز پارٹی کو 614 جبکہ مسلم لیگ (ن) کو صرف 11 ووٹ ملے۔
امیر مقام نے کہا کہ عوامی مقبولیت اور عوامی فیصلہ ہی انتخابی نتائج کا اصل معیار ہوتا ہے، صرف چند اعداد و شمار سے حقیقت تبدیل نہیں ہوتی، تمام پولنگ اسٹیشنوں کے مکمل نتائج سامنے رکھ کر ہی انتخابات پر تبصرہ کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ راجہ پرویز اشرف کو چاہیے تھا کہ حلقے کے تمام پولنگ اسٹیشنز کے نتائج پہلے دیکھ لیتے،متعدد پولنگ اسٹیشنز پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار یاسین گلزار کو بھاری اکثریت سے ووٹ ملے،کئی پولنگ اسٹیشنز پر 80 سے 96 فیصد تک ٹرن آؤٹ رہا
امیر مقام نے کہا کہ جہاں بھی نتائج دیکھیں، عوام نے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار پر اعتماد کا اظہار کیا، صرف الزامات لگانے کے بجائے حقائق اور سرکاری نتائج کا جائزہ لیا جائے،اگر کسی کو انتخابی نتائج پر اعتراض ہے تو ثبوت کے ساتھ متعلقہ فورم سے رجوع کرے۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر الیکشن: پیپلز پارٹی شکست کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہے: ن لیگ کا بلاول بھٹوکو جواب
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کو نتخابات میں کامیابی عوامی خدمت، مؤثر مہم اور بہتر کارکردگی کی بنیاد پر حاصل ہوئی،عوام نے اپنی رائے آزادانہ طور پر استعمال کی، کسی دباؤ کا کوئی سوال نہیں،آزاد کشمیر کے عوام نے انتشار کی سیاست کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر، سکیورٹی اداروں، چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس نے شفاف انتخابات کے انعقاد میں بہترین کردار ادا کیا،تمام ادارے ٹیم ورک کے ساتھ کام کرتے رہے، جس کے باعث پرامن ماحول میں انتخابات مکمل ہوئے۔




