ایران نے امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعووں کو مسترد کر دیا ہے ۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ابھی تک کسی بھی معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی گئی اور اس حوالے سے سامنے آنے والی کئی باتیں صرف اندازے اور قیاس آرائیاں ہیں ۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ معاہدے پر دستخط کی تاریخ یا مقام کے بارے میں جو خبریں گردش کر رہی ہیں، ان کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ۔
ان کے مطابق مذاکرات کا عمل جاری ہے اور اس مرحلے پر کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا جا سکتا ۔
ترجمان نے بتایا کہ قطر اور پاکستان اس سفارتی کوشش میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور دونوں ممالک فریقین کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:فیلڈ مارشل بہترین جنرل، امن معاہدے کیلئے پاکستان کردار ادا کررہا ہے، ٹرمپ
تاہم ایران اپنے بنیادی مؤقف اور طے شدہ اصولوں پر قائم رہے گا اور کسی بھی معاملے میں اپنی اہم ریڈ لائنز پر سمجھوتہ نہیں کرے گا ۔
دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک معاہدہ آخری مراحل میں پہنچ چکا ہے اور جلد اس پر دستخط ہونے کی توقع ہے ۔
ٹرمپ کے مطابق ایران کی اعلیٰ قیادت بھی اس معاہدے پر رضامند ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہوگا۔تاہم دونوں ممالک کے بیانات میں واضح فرق سامنے آیا ہے، جس کے باعث سفارتی حلقوں میں صورتحال کے بارے میں غیر یقینی پائی جا رہی ہے ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مذاکرات جاری ہیں، لیکن حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئے دونوں فریقوں کو کئی اہم معاملات پر اتفاق کرنا ہوگا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستا ن نےٹرمپ کو ایران پر حملے بند کرنے پر راضی کیا،امریکی تجزیہ کار
فی الحال عالمی برادری کی نظریں ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی کوششوں پر ہیں اور آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید پیش رفت سامنے آنے کا امکان ہے ۔




