آئی جی آزاد کشمیر کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک کا کمشنر آفس کا اہم دورہ! شہریوں سے ملاقات

راولاکوٹ سمیت آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں امن و امان کی صورتحال دیکھنے کے لیے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس آزاد کشمیر کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک اچانک کمشنر آفس پہنچے جہاں انہوں نے وہاں موجود عام شہریوں اور دور دراز سے آئے سائلین کے ساتھ براہِ راست ملاقات کی۔

آئی جی پی نے شہریوں سے گفتگو کے دوران ان کے مسائل سنے، ان کا حال احوال پوچھا اور ان کے جائز مطالبات اور تکالیف کے فوری و موقع پر حل کے لیے متعلقہ انتظامیہ کو سخت احکامات جاری کیے۔ آئی جی پی کے اس منفرد عوامی انداز اور شہریوں سے براہِ راست گھل مل جانے کو مقامی عوام نے بے حد پسند کیا کیونکہ سیکیورٹی کی نازک صورتحال کے فوری بعد اعلیٰ ترین پولیس افسر کا خود عوام کے درمیان موجود ہونا شہریوں میں احساسِ تحفظ کو مزید بیدار کرنے کا باعث بنا ہے۔

دوسری جانب، اسی تسلسل میں کمشنر مظفرآباد اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس آزاد کشمیر نے مظفرآباد شہر کا بھی ایک اہم اور تفصیلی دورہ کیا ہے جس کے دوران انہوں نے شہر کے مختلف حساس اور تجارتی علاقوں کا تفصیلی جائزہ لیا جہاں اب تمام تر معمولاتِ زندگی اور کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر بحال ہو چکی ہیں۔ دورے کے دوران دونوں اعلیٰ حکام نے شہر بھر میں پیدل چل کر عام شہریوں اور مقامی دکانداروں سے براہِ راست ملاقاتیں کیں، ان سے سیکیورٹی کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی اور ان کے کاروبار کے حوالے سے خیالات معلوم کیے۔ اس موقع پر کمشنر اور آئی جی پولیس نے شہر میں برقرار رہنے والی امن و امان کی مجموعی صورتحال پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ مظفرآباد کے شہریوں اور تاجر برادری کی جانب سے بھی عوام کے جان و مال کے تحفظ، کاروباری سرگرمیوں کی بلا تعطل بحالی اور امنِ عامہ کو برقرار رکھنے کے لیے آزاد کشمیر پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے فوری، مؤثر اور بروقت اقدامات کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ انسپکٹر جنرل پولیس آزاد جموں و کشمیر نے راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی سے وابستہ مسلح شرپسند عناصر کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے افسران اور اہلکاروں پر پیشگی منصوبہ بندی کے تحت فائرنگ، امن و امان کو سبوتاژ کرنے اور سی ایم ایچ (CMH) راولاکوٹ پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ آزاد کشمیر پولیس کی آفیشل پریس ریلیز کے مطابق اتوار کو راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی سے تعلق رکھنے والے سرغنوں کے مسلح عناصر نے احتجاج کے نام پر جمع ہو کر ڈیوٹی پر موجود قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو باقاعدہ پلاننگ کے تحت براہِ راست نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اب تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 4 اہلکار جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں جبکہ 20 سے زائد پولیس اور سیکیورٹی اہلکار شدید زخمی ہوئے ہیں جنہیں فوری طبی امداد کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع اور میڈیکل رپورٹ کے مطابق شہید اور زخمی ہونے والے تمام اہلکاروں کے زخم فائر آرم اور گن شاٹ نوعیت کے ہیں جو کہ شرپسندوں کی مسلح تیاری کا واضح ثبوت ہے۔ پولیس ذرائع نے مزید تصدیق کی ہے کہ سی ایم ایچ پر حملے میں شہید ہونے والوں میں راولاکوٹ پولیس کے ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر (ASI) اور 2 پولیس کانسٹیبل شامل ہیں جن کا تعلق مقامی علاقے سے ہے، جبکہ چوتھے شہید کا تعلق فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) سے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: احتجاج شہریوں کا حق مگر سرکاری املاک ،اہلکاروں پر حملے کرنیوالوں کو معاف نہیں کرینگے ، آئی جی کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک

آئی جی پولیس آزاد کشمیر کا اس سنگین صورتحال پر سخت موقف اپناتے ہوئے کہنا ہے کہ یہ خونی واقعہ کسی بھی طور پر کسی پرامن سیاسی احتجاج کا تسلسل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک منظم، مسلح اور خالصتاً دہشتگردانہ کارروائی ہے جس میں ریاستی رٹ، عوامی امن، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایک حساس طبی مرکز کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سی ایم ایچ راولاکوٹ جیسے ہسپتال پر حملہ کرنا نہ صرف قانون کی سنگین ترین خلاف ورزی ہے بلکہ وہاں زیرِ علاج مریضوں، ڈاکٹروں، طبی عملے، زخمی اہلکاروں اور عام شہریوں کی سلامتی کو براہِ راست خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے سیکیورٹی فورسز پر براہِ راست فائرنگ، اہلکاروں کی شہادتوں، گن شاٹ زخموں اور ہسپتال پر دھاوے کو واضح دہشت گردی قرار دیتے ہوئے سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ اس بزدلانہ حملے کا قانونی نتیجہ ناگزیر شواہد پر مبنی، آئین و قانون کے عین مطابق اور یقینی ہوگا، اور کسی بھی مسلح جتھے کو آزاد کشمیر کے پرامن شہریوں کی سلامتی اور ریاستی نظام کو یرغمال بنانے کی قطعاً اجازت نہیں دی جائے گی۔ آزاد جموں و کشمیر پولیس نے اپنے شہید اہلکاروں کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عظیم قربانیاں آزاد کشمیر کے امن، شہریوں کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کے لیے دی گئی ہیں، جبکہ پولیس اور انتظامیہ یہ واضح کرتی ہے کہ ریاستی رٹ اور عوامی امن پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا اور قانون اب اپنا راستہ خود بنائے گا۔

مزید پڑھیں: ضلع جہلم ویلی میں حالات معمول کے مطابق، کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال بے اثر