اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کے پیچھے بھارت کا کردار ہے اور ہمسایہ ملک دہشت گرد گروہوں کی معاونت کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی پر قابو پا لیا گیا تھا، لیکن ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت اسے دوبارہ ہوا دی گئی۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کے بلوچ اور پشتون عوام نے قیامِ پاکستان میں نمایاں کردار ادا کیا جبکہ صوبے کی سیاسی قیادت نے ہمیشہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر وفاق کے استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے خدمات انجام دیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کے مختلف علاقوں کے درمیان وسیع فاصلے ہونے کے باعث یہاں ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی ڈھانچے پر زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔
وزیراعظم کے مطابق قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت پنجاب نے بلوچستان کیلئے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اضافی وسائل فراہم کیے، جبکہ دیگر صوبوں نے بھی مکمل تعاون کیا، جو قومی یکجہتی اور بھائی چارے کی علامت ہے، نہ کہ کسی قسم کا احسان۔
شہباز شریف نے بتایا کہ پنجاب نے این ایف سی ایوارڈ کے تحت بلوچستان کو 150 ارب روپے فراہم کیے، جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور میں بھی صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے خطیر فنڈز مختص کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حکومت اور موجودہ وفاقی حکومت نے بھی بلوچستان کی ترقی کے لیے ریکارڈ وسائل فراہم کیے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں 27 ہزار زرعی ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ کسانوں کیلئے 75 ارب روپے کے پیکیج میں وفاق نے 50 ارب روپے کا حصہ ڈالا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی سے چمن تک دو رویہ شاہراہ کی تعمیر پر کام جاری ہے، جس پر تقریباً 300 ارب روپے لاگت آئے گی اور منصوبہ آئندہ دو برس کے دوران مکمل ہونے کی توقع ہے۔
انہوں نے مستونگ میں ہونے والے دہشت گرد حملے میں سیشن جج عبدالحکیم اور ایک اہلکار کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک میں امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے تقریباً 90 ہزار شہریوں اور اہلکاروں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
انکے مطابق 2018 تک دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا، تاہم بعد ازاں ایک منظم سازش کے تحت دہشتگردی کو دوبارہ فروغ دیا گیا، جس میں بھارت کا کردار واضح ہے۔
انہوں نے افغانستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ وزیراعظم کے مطابق افغان حکومت دہشت گرد عناصر کو روکنے میں مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
خطاب کے اختتام پر شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور معرکۂ حق میں دشمن کو شکست دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔
انہوں نے فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کامیابیاں دشمن کو برداشت نہیں ہو رہیں ۔
تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کو معاشی ترقی کی نئی راہ پر گامزن کرتے ہوئے قومی خوشحالی کے سفر کو مزید تیز کیا جائے۔




