سپریم کورٹ:مہاجرین نشستوں سے متعلق ریفرنس پر فیصلہ محفوظ

مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین جموں و کشمیر کے لیے مختص 12 نشستوں کے آئینی و قانونی مستقبل سے متعلق حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے دائر صدارتی ریفرنس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا ۔

جو صدر ریاست کو ارسال کر دیا جائیگا ، چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان اور جسٹس خالد یوسف چوہدری پر مشتمل بینچ نے مختلف آئینی، قانونی اور عوامی اہمیت کے حامل نکات پر تفصیلی دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔

دوران سماعت عدالت نے ریفرنس میں اٹھائے گئے مختلف آئینی سوالات پر عدالتی معاونین اور سینئر قانون دانوں کی آراء حاصل کیں۔

سینئر قانون دان راجہ سجاد احمد خان نے بطور عدالتی معاون مؤقف اختیار کیا کہ عبوری آئین آزاد جموں و کشمیر کے آرٹیکل 33 کے تحت قانون ساز اسمبلی کو مکمل قانون سازی کا اختیار حاصل ہے ۔۔

مہاجرین نشستوں کے معاملے کو ہائی پاور کمیٹی کے فورم پر زیر غور لایا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے وفاقی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا حوالہ بھی عدالت کے سامنے پیش کیا۔

بیرسٹر ہمایوں نواز، راجہ صداقت حسین اور سردار عبدالرازق سمیت دیگر قانون دانوں نے بھی اپنے اپنے قانونی نکات پیش کئے۔

سماعت کے دوران سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان، سابق وزیر چوہدری محمد رشید اور مہاجرین نشست کے رکن قانون ساز اسمبلی عبدالماجد خان ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوئے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی: آدتیہ راج کول سمیت “را” کے پالتو اکاؤنٹس کا پاکستان مخالف پروپیگنڈا بے نقاب

حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے دائر ریفرنس میں عدالت سے استفسار کیا گیا ہے کہ آیا آئین آزاد کشمیر کی دفعات 22، 33 اور 57 کے تحت مہاجرین کی 12 مخصوص نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور کیا ان میں کسی قسم کی تبدیلی یا خاتمہ صرف آئینی ترمیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

عدالت سے یہ رہنمائی بھی طلب کی گئی ہے کہ کیا عوامی دباؤ، احتجاج، دھرنوں یا راستے بند کرنے کی دھمکیوں کے ذریعے ان نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ آئینی طور پر جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔

ریفرنس میں مزید سوال اٹھایا گیا ہے کہ اپنی آئینی مدت مکمل کرنے کے قریب موجودہ قانون ساز اسمبلی اس نوعیت کی بنیادی آئینی ترمیم کی مجاز ہے یا ایسا فیصلہ نئی منتخب اسمبلی کو کرنا چاہیے۔

حکومت نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا ہے کہ طاقت، دباؤ یا دھمکی کے ذریعے آئینی شقوں میں تبدیلی کی کوشش آئینی نظم کی تخریب کے مترادف ہو سکتی ہے اور اس کے ریاست جموں و کشمیر کے وحدانی تشخص، پاکستان سے الحاق اور مسئلہ کشمیر کے بین الاقوامی موقف پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

حکومت نے عدالت سے بنیادی حقوق کے تناظر میں بھی رہنمائی طلب کی ہے کہ آیا احتجاج اور اجتماع کی آزادی کو ایسے مطالبات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جن کا مقصد انتخابات میں رکاوٹ ڈالنا یا آئینی طریقہ کار سے ہٹ کر تبدیلیاں کروانا ہو۔

ساتھ ہی یہ استفسار بھی کیا گیا ہے کہ کیا حکومت آئینی مدت کے اندر انتخابات کے انعقاد، امن و امان کے قیام اور ریاستی نظم و نسق کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اقدامات کرنے کی پابند ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر پرانی، مواد شیئر کر کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش

ریفرنس کے مطابق قانون ساز اسمبلی کی 53 نشستوں میں سے 12 نشستیں مقبوضہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کے لیے مختص ہیں، جن میں چھ نشستیں وادی کشمیر جبکہ چھ نشستیں جموں ریجن اور منگلا ڈیم متاثرین کیلئے مخصوص ہیں۔

حکومت کے مطابق یہ نشستیں لاکھوں مہاجرین کی نمائندگی کے ساتھ ساتھ ریاست جموں و کشمیر کے وحدانی تشخص اور حق خود ارادیت کے تاریخی مؤقف کی علامت ہیں۔

حکومت نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے مہاجرین نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں احتجاجی تحریکوں اور ہڑتالوں کے اعلانات کے باعث انتخابی عمل اور معمولات زندگی متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

حکومت نے اپنے مؤقف کی تائید میں آئین آزاد کشمیر اور مختلف عدالتی نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے آئینی بالادستی، انتخابی عمل اور ریاستی استحکام کے تحفظ کے لیے سپریم کورٹ سے واضح آئینی رہنمائی طلب کی ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس رضا علی خان نے اس مقدمے کی سماعت سے معذرت کر لی تھی، جس کے باعث دو رکنی بینچ نے ریفرنس کی سماعت کی۔

تمام فریقین اور عدالتی معاونین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جس کا سیاسی، قانونی اور عوامی حلقوں کو بے چینی سے انتظار ہے۔
ماہرین کے مطابق عدالت کی رائے یا فیصلہ مہاجرین نشستوں، آئندہ عام انتخابات اور آزاد جموں و کشمیر کے آئینی و سیاسی نظام پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔