مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل (قیم) امیر العظیم کی رحلت نہ صرف جماعت اسلامی پاکستان بلکہ عالمی تحریکات اسلامی، تحریک آزادی کشمیر اور دینی و فکری حلقوں کےلئے ایک بڑا نقصان ہے۔
ان خیالات کا اظہار حزب کمانڈ کونسل کے ایک خصوصی اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت امیر حزب المجاہدین اور متحدہ جہاد کونسل کے چیئر مین سید صلاح الدین احمد نے کی۔
اجلاس میں کہا گیا کہ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل (قیم) امیر العظیم طویل علالت کے بعدگزشتہ رات انتقال کر گئے۔ وہ کینسر جیسے موذی مرض کا صبر و استقامت کےساتھ مقابلہ کرتے رہے اور اپنی آخری سانس تک دینی، فکری اور تحریکی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔
اجلاس میں ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ مرحوم نے اپنی تحریکی زندگی کا آغاز اسلامی جمعیت طلبہ سے کیا اور بعد ازاں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے۔
انہوں نے طویل عرصے تک جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، جہاں انہوں نے جماعت کے موقف کو موثر انداز میں عوام اور ذرائع ابلاغ تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہیں جماعت اسلامی پاکستان کا مرکزی سیکریٹری جنرل (قیم) مقرر کیا گیا اور وہ اپنی وفات تک اس اہم ذمہ داری کو دیانت، اخلاص اور حسنِ تدبر کےساتھ نبھاتے رہے۔
اجلاس میں کہا گیا کہ امیر العظیم کا شمار جماعت اسلامی پاکستان کے ان ممتاز رہنماوں میں ہوتا تھا جنہوں نے عظیم مفکر سید ابوالاعلیٰ مودودی کی براہ راست تربیت سے استفادہ کیا، دین کا صحیح فہم حاصل کیا اور پوری زندگی اسی دعوت و فکر کے فروغ کیلئے وقف رکھی۔
وہ ایک صاحبِ مطالعہ، صاحبِ فکر، باعمل شخصیت، شائستہ مزاج، شریف النفس اور باوقار رہنما تھے جنہیں قومی اور بین الاقوامی دینی و تحریکی حلقوں میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
مرحوم عالمی تحریکاتِ اسلامی میں بھی ایک نمایاں شناخت رکھتے تھے اور تحریک آزادی کشمیر کے موقف کو اجاگر کرنے میں انہوں نے پاکستانی ذرائع ابلاغ اور مختلف قومی و بین الاقوامی فورمز پر موثر کردار ادا کیا۔
وہ ہمیشہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت میں پیش پیش رہے اور تحریک آزادی کشمیر کے ایک مخلص پشتیبان کی حیثیت سے یاد رکھے جائیں گے۔
اجلاس کے اختتام پر مرحوم کی مغفرت، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور پسماندگان کیلئے صبر جمیل کی دعا کی گئی۔ شرکائے اجلاس نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ مرحوم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسلام کی سربلندی اور تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔




