سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر پرانی، مواد شیئر کر کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش

سوشل میڈیا پر آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کو لے کر وائرل ہونے والی مختلف ویڈیوز اور تصاویر کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ شرپسند عناصر اور ریاست مخالف پروپیگنڈا نیٹ ورکس کی جانب سے عوام میں گمراہی پھیلانے کے لیے ماضی کے پرانے احتجاجی مظاہروں کی ویڈیوز کو بالکل تازہ اور موجودہ حالات کی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا مانیٹرنگ کے دوران یہ بات مکمل طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ وائرل ہونے والا یہ تمام مواد پرانا ہے، جبکہ اس وقت آزاد کشمیر بھر میں صورتحال پرامن اور معمول کے مطابق ہے۔

سوشل میڈیا مانیٹرنگ کے دوران ایک صارف کی جانب سے پوسٹ کی گئی ویڈیو کا اسکرین شاٹ (جو کہ میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے) سامنے آیا ہے۔ اس پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ “پلندی آزاد کشمیر میں عوام کا احتجاج” ہے۔

فیکٹ چیک ٹیم کی تحقیقات کے مطابق، اس وائرل ویڈیو اور تصویر کا موجودہ حالات سے دُور دُور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ماضی میں ہونے وال

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر پولیس کا بڑا کریک ڈاؤن: کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 72 افراد گرفتار

ے کسی پرانے احتجاج کی ویڈیو ہے جسے جان بوجھ کر موجودہ تاریخ یعنی 6 جون 2026 کو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ جیسے یہ آج کے تازہ ترین مناظر ہیں۔ اس قسم کے گمراہ کن مواد کا مقصد صرف اور صرف عوام کو اشتعال دلانا اور انٹرنیٹ پر سنسنی پھیلانا ہے، جبکہ زمینی حقائق کے مطابق پلندری اور دیگر علاقوں میں زندگی بالکل پرسکون طریقے سے رواں دواں ہے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ بھارتی ایجنڈے یا شرپسند عناصر کی جانب سے پرانی ویڈیوز کا سہارا لیا جا رہا ہو۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی لگنے کے بعد سے پاکستان مخالف بیانیہ رکھنے والے اکاؤنٹس پرانے دھرنوں، جھڑپوں اور پرانے احتجاجی ریلیوں کے کلپس کاٹ کاٹ کر شیئر کر رہے ہیں تاکہ دنیا کو یہ دکھایا جا سکے کہ آزاد کشمیر میں حالات کشیدہ ہیں۔

عوام اور سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس طرح کی کسی بھی غیر تصدیق شدہ ویڈیو، تصویر یا افواہ پر بالکل یقین نہ کریں اور صرف آفیشل و مستند ذرائع سے حاصل ہونے والی خبروں پر ہی بھروسہ کریں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر بھر میں حالات مکمل پرامن، زندگی رواں دواں