آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے لیے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے سے متعلق اہم تجاویز تیار کر لی گئی ہیں۔ ان تجاویز میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی اور مختلف الاؤنسز میں نمایاں اضافہ شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق سالانہ 12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے آمدن رکھنے والے افراد کے لیے ٹیکس میں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کنوینس الاؤنس میں گریڈ 1 سے 19 تک سو فیصد جبکہ گریڈ 20 سے 22 تک پچاس سے پچھتر فیصد اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔ تنخواہوں میں مجموعی طور پر دس فیصد تک اضافے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ ساتھ ہی گزشتہ چند برسوں میں دیے گئے چار ایڈہاک الاؤنسز میں سے ایک کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مہنگائی سے متاثرہ عوام کو ہر ممکن ریلیف دیں گے، رانا ثناء اللہ کا بڑا اعلان
گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے ڈسپیرٹی الاؤنس دینے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق تنخواہوں میں اضافے سے متعلق حتمی فیصلہ بجٹ سے قبل ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ یقینی ہے تاہم حتمی فیصلہ اس بات پر ہوگا کہ کون سی تجویز منظور کی جاتی ہے۔ حکومت کی جانب سے کم از کم اجرت بڑھانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ مسلح افواج کے ملازمین کو کنٹری بیوٹری پنشن نظام میں شامل کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ پنشنرز کے لیے دو سال کی اوسط مہنگائی کے مطابق تقریباً اسی فیصد تک اضافے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ تمام تجاویز حتمی مرحلے میں ہیں اور بجٹ سے قبل اعلیٰ سطحی اجلاس میں ان پر فیصلہ کیا جائے گا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینا اور مہنگائی کے اثرات کم کرنا اس بجٹ کی اہم ترجیح ہوگی۔




