نئے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کی تجویز، بی آئی ایس پی وظیفے میں اضافے کا امکان

اسلام آباد: نئے مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ جون کے پہلے ہفتے میں پیش کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق اس بار بجٹ کی تیاری خاص طور پر بین الاقوامی مالیاتی تقاضوں کے تحت کی جا رہی ہے تاکہ معاشی استحکام حاصل کیا جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ کی تشکیل میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کو مدنظر رکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے مالی نظم و ضبط کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت تنخواہ دار طبقے کو کسی حد تک ریلیف دینے کی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سپر ٹیکس میں مرحلہ وار کمی کی تجویز بھی زیر بحث ہے۔ حکومتی پالیسی سازوں کی کوشش ہے کہ ٹیکس کا بوجھ عام آدمی پر کم سے کم ڈالا جائے تاکہ مہنگائی کے دباؤ میں کچھ کمی لائی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ریڈ زون: وفاقی سرکاری ملازمین کو 20 اپریل کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت

سماجی تحفظ کے حوالے سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے تحت مستحق خاندانوں کے وظیفے میں اضافے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ اس تجویز کے مطابق سہ ماہی امداد کو موجودہ ساڑھے چودہ ہزار روپے سے بڑھا کر ساڑھے انیس ہزار روپے تک کیا جا سکتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو بہتر مالی سہارا فراہم کرنا ہے۔

دوسری جانب، حکومت مختلف شعبوں کو دی گئی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے پر بھی غور کر رہی ہے، جن میں اسپیشل اکنامک زونز بھی شامل ہیں۔ حکومتی مؤقف ہے کہ نئی ٹیکس مراعات دینے کے بجائے پہلے سے موجود رعایتوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔ اسی طرح ایکسپورٹ زونز کے لیے بھی نئی پالیسی زیر غور ہے، جس کے تحت وہاں تیار ہونے والی اشیاء کو مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت محدود کی جا سکتی ہے۔

توانائی کے شعبے میں بھی اہم اصلاحات متوقع ہیں، جہاں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بروقت ایڈجسٹمنٹ کو ضروری قرار دیا جا رہا ہے تاکہ گردشی قرضے پر قابو پایا جا سکے۔ مزید برآں، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے آڈٹ نظام کو مرکزی اور مؤثر بنانے کی تجویز بھی شامل ہے تاکہ ٹیکس وصولی کے نظام کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔ حکومت زرمبادلہ سے متعلق پابندیوں میں بتدریج نرمی اور 2027 تک پاکستان ریگولیٹری رجسٹری کے قیام پر بھی غور کر رہی ہے، جس سے مالیاتی شفافیت میں بہتری کی توقع ہے۔

مزید پڑھیں:وزیراعظم ہاؤس میں بی آئی ایس پی کے نئے دفتر کا افتتاح، وزیراعظم اور روبینہ خالد کی شرکت

Scroll to Top