اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا مشرقِ وسطیٰ (خصوصاً یمن) کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اہم خطاب کیا۔
انہوں نے سعودی عرب پر حوثی باغیوں کی جانب سے حالیہ بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی اور برادر ملک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
سعودی عرب کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا:
پاکستانی مندوب عثمان جدون نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے پاکستان اپنی غیر مشروط اور مکمل حمایت کے عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حدود کو نشانہ بنانے کی کوئی بھی کوشش ناقابلِ قبول ہے۔
یمن کی خود مختاری اور سیاسی حل پر زور:
اپنے خطاب کے دوران عثمان جدون کا کہنا تھا کہ پاکستان یمن کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کا دل سے احترام اور حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں پائیدار اور طویل المیعاد امن صرف ایک جامع سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کیلئے مذاکرات، سفارتکاری اور تحمل کا راستہ اختیار کریں۔
سعودی دفاعی نظام کی بروقت کارروائی:
واضح رہے کہ گزشتہ روز غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں یمن میں سرگرم سعودی اتحادی فورس کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے جنوبی علاقے کی جانب بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے تھے۔ تاہم، سعودی فضائی دفاعی نظام (Air Defense System) نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
یاد رہے کہ اس حملے سے قبل یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر صنعا ائیرپورٹ پر فضائی حملے کرنے کا الزام عائد کیا تھا اور دھمکی دی تھی کہ سعودی عرب کو اس کارروائی کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔




