گلگت بلتستان انتخابات ،سابق وزیراعلیٰ کے بھتیجے کی جعلسازی پکڑی گئی

گلگت بلتستان میں عام انتخابات 2026 کی مہم کے دوران سرکاری ملازم کے ووٹ کے حوالے سے جعل سازی کے الزام پر پہلا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں تھانہ سٹی چلاس میں دائر فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں تانگیر سے انتخابات میں حصہ لینے والے استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار اور سابق وزیر اعلیٰ گلبر خان کے بھتیجے خوش محمد کو نامزد کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بلاول اور آصفہ کا دورہ گلگت بلتستان،8انتخابی جلسوں کا شیڈول جاری

ایف آئی آرکے کے مطابق ایس ایس پی کا جعلی اسٹمپ بنانے کا انکشاف ہوا ہے تاہم پولیس حرکت میں آگئی ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا ہے کہ ملزم نے جعلی سرکاری مہر لگا کر بلٹ پیپر تیار کیا اور ان کے شناختی کارڈ کی کاپی کے ساتھ جمع کراویا ہے۔انہوں نے ملزم کے خلاف کارروائی کی درخواست کی۔

پولیس نے بتایا کہ جعلی دستاویزات کیس کی مزید تفتیش جاری ہے، قانون سے بالاتر کوئی نہیں، جعل سازی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان: جماعت اسلامی کے امیدوار مسلم لیگ ن کے حق میں دستبردار

یاد رہے کہ سابق وزیر اعلیٰ گلبر خان حال ہی میں اپنے گروپ کیساتھ استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہوئے ہیںاورمبصرین کے مطابق حلقہ میں انکی پوزیشن مستحکم ہے لیکن یہ تنازع ان کے الیکشن پر اثر انداز ہوسکتا ہے اور ووٹ بینک بھی متاثر ہوسکتا ہے۔

گلگت بلتستان میں عام انتخابات 7 جون 2026 کو شیڈول ہیں جس کیلئے مہم زوروں پر ہے ، مسلم لیگ(ن)، پیپلزپارٹی ، استحکام پاکستان پارٹی، پی ٹی آئی، ایم ڈبلیو ایم،اسلامی تحریک، جمعیت علماء اسلام (ف)،جماعت اسلامی کے امیدوار میدان میں موجود ہیں۔