اسحاق ڈار

امریکا ایران کشیدگی،پاکستان مذاکرات بحالی کیلئے پھر متحرک ، اسحاق ڈار کے اہم رابطے

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پاکستان نے خطے کو کسی بڑے بحران سے بچانے کیلئے اپنی سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔

نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے علاقائی امن و استحکام کی بحالی کیلئے ایک بار پھر دوست ممالک کیساتھ اعلیٰ سطح کے رابطوں کا آغاز کر دیا ہے، جس کا بنیادی مقصد فریقین کو جنگی جنون کے بجائے مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔

ایران اور سعودی عرب سے اہم ترین رابطے:
سفارتی محاذ پر پیشرفت کرتے ہوئے نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس دوران انہوں نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ حالات میں مزید کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں اور وقت کی اہم ترین ضرورت یہ ہے کہ تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے باور کرایا کہ پائیدار امن کا واحد راستہ صرف اور صرف سفارتکاری ہے۔

دوسری جانب نائب وزیرِ اعظم نے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کو بھی اعتماد میں لیا۔ پاکستان میں تعینات سعودی سفیر نواف بن سعید احمد المالکی نے اسحاق ڈار سے اہم ملاقات کی، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی تازہ ترین صورتحال کا احاطہ کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر مکمل اتفاق کیا کہ خطے کو عدم استحکام سے بچانے کیلئے مشترکہ سفارتی کوششوں کو مزید تیز اور مضبوط کیا جائے۔

دفترِ خارجہ کا باضابطہ مؤقف:
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بھی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الرٹ جاری کیا ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان خطے کی پل پل بدلتی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ ممالک پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر ایسے اقدامات سے گریز کریں جس سے ماحول مزید خراب ہو، اور سفارتی ذرائع کو بروئے کار لا کر مسائل کا حل تلاش کریں۔

آبنائے ہرمز پر منڈلاتے خطرات:
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کی اس تازہ ترین کشیدگی نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو دنیا کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی معیشت کی شہ رگ مانی جاتی ہے جہاں سے دنیا بھر کو تیل اور توانائی کی سپلائی لائن گزرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہاں صورتحال مزید خراب ہوئی تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت پر انتہائی بھیانک ہو سکتے ہیں۔