واشنگٹن:وائٹ ہاؤس کے عہدیدار کا کہنا ہے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کا معاہدہ فوری ہونے کا امکان نہیں ہے۔ایرانی قیادت کی جانب سے معاہدے کی منظوری میں کئی روز لگ سکتے ہیں۔
اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہمارا معاہدہ ابھی مکمل طور پر طے نہیں ہوا، ہمارا معاہدہ اوباما کے معاہدے کے بالکل برعکس ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کو جوہری ہتھیار نہ بنانےکا یقین دلانے کیلئے تیار ہیں، ایرانی صدر
ہمارے معاہدے کو ابھی تک کسی نےدیکھا نہیں، نہ ہی کوئی جانتاہے کہ اس معاہدے میں کیا ہے؟ان ناکام لوگوں کی باتوں پردھیان نہ دیں جو جانے بغیر تنقید کررہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران سے متعلق اچھی خبر ہی ہوگی، میں بُری ڈیل نہیں کرتا۔
ادھرامریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو خطے کی حمایت تو حاصل ہے، تاہم جوہری معاہدہ 72 گھنٹوں میں کاغذ پر سرسری طور پر طے نہیں کیا جا سکتا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ہم اسے مؤخر نہیں کر رہے، لیکن جوہری مذاکرات انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ جوہری معاملہ 72 گھنٹوں میں سرسری انداز میں طے نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت خطے کے 7 یا 8 ممالک اس حکمتِ عملی کی حمایت کر رہے ہیں اور امریکا اس سمت میں آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کے مذاکرات میں مثبت پیشرفت کی اُمیدہے : ایرانی سفیر رضا امیری مقدم
واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ ان کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مذاکرات کاروں کو ہدایت دی کہ ایران کے ساتھ 3 ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے میں جلدبازی نہ کی جائے۔




