کوئٹہ میں ٹرین پر دہشتگرانہ حملے میں ملوث مبینہ ماسٹر مائنڈ کے “مسنگ پرسن” ہونے کے انکشاف سامنے آگیا۔ ملک بھر میں انسانی حقوق کی آڑ میں ریاستی اداروں کیخلاف جھوٹے بیانیے پر سوالات اٹھنے لگے
سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا انسانی حقوق کے نام پر صرف یکطرفہ جھوٹا بیانیہ پھیلایا جاتا رہا ہے جس کے نتیجے میںبے گناہ پاکستانی اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم فیصل راٹھور کی راجہ پرویز اشرف اہم ملاقات،الیکشن مہم بھرپور چلانے پر اتفاق
مبصرین کا کہنا ہے کہ “مسنگ پرسن” ہونا کسی شخص کی معصومیت کا حتمی ثبوت نہیں جبکہ دوسری جانب الزام ثابت ہونے سے پہلے ہر شہری کو قانونی تحفظ اور شفاف عدالتی عمل کا حق حاصل ہے۔
شہریوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا کہ اگر کوئی شخص دہشتگردی اور بے گناہ پاکستانیوں کے قتل میں ملوث پایا جائے تو اس کیخلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جانی چاہیے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کوٹلی:80خاندان پیپلزپارٹی میں شامل،وقت کم نہ ہوتا تو تقدیر بدل دیتے،چوہدری یٰسین
تاہم ریاستی اداروں پر بھی لازم ہے کہ ہر کارروائی آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کی جائے تاکہ انصاف کے تمام تقاضے پورے ہوں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دہشتگردی کے متاثرین، لاپتہ افراد کے اہل خانہ اور عام شہری — سب کے انسانی حقوق یکساں اہم ہیںمگر جو ملک کیخلاف دہشتگردی میں ملوث ہیں انہیں کسی صورت معاف نہیں کیاجانا چاہیے




