مظفرآباد:الیکشن کمیشن آزاد جموں وکشمیر نے 2021کے انتخابات کے موقع پر رجسٹرڈ 42سیاسی جماعتوں میں سے 33کی رجسٹریشن منسوخ کر دی ہے 2026 کے انتخابات میں صرف 9 سیاسی جماعتیں حصہ لیں گی۔
سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق 33 سیاسی جماعتوں رجسٹریشن کی شرئط پوری نہ کر سکنے کے باعث رجسٹریشن سے محروم ہوگئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر الیکشن موخر ہوگئے تو قیامت نہیں آجائے گی ،تنویرالیاس
نیوزایجنسی صباح نیوز کے مطابق سپریم کورٹ آزاد جموں وکشمیر کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن ایکٹ 2020 کے مطابق اب تک صرف 9سیاسی جماعتوں کے کوائف مکمل تھے رجسٹرڈ ہوچکی ہیں۔
رجسٹرد سیاسی جماعتوں میں پاکستان مسلم لیگ ن آزاد جموں وکشمیر، جماعت فلاح انسانیت آزاد جموں وکشمیر، مرکزی جمعیت اہلحدیث آزاد جموں وکشمیر، صدائے حق پارٹی آزاد جموں وکشمیر، پاکستان پیپلز پارٹی آزاد جموں وکشمیر، آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس، جماعت اسلامی آزاد کشمیر، جموں وکشمیر لبریشن لیگ اور جموں وکشمیر پیپلز پارٹی شامل ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کی رکنیت کی درخواست 16 مئی کو مسترد کی جا چکی ہے جس نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ اب اعلی عدلیہ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام جموں وکشمیر، متحدہ قومی موومنٹ، راہ حق پارٹی آزاد کشمیر ،جماعت اہلسنت آزاد کشمیر، جمعیت علماءجموں کشمیر، یونائیٹڈ موومنٹ آزاد کشمیر، آل جموں وکشمیر جمعیت علماء اسلام، وحدت مسلمین، تحریک جعفریہ، آل جموں وکشمیر مرکزی اہلحدیث، عام آدمی پارٹی، تحریک جوانان کشمیر، عوامی نیشنل پارٹی جموں وکشمیر، جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ سمیت33جماعتوں کی رجسٹریشن کے لوازمات تاحال پورے نہ ہونے کی وجہ سے معاملات زیر التواء ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:الیکشن شیڈول مہاجرین نشستوں سے مشروط کرنے کی خبریں بے بنیاد، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن کے مطابق جب سے الیکشن ایکٹ ترمیمی2020 کا نفاذ ہوا اور مابعد سپریم کورٹ آف آزاد جموں وکشمیر کا فیصلہ آیا کی روشنی میں الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو رجسٹریشن کے لیے نئے رولز سے آگاہ کیا جس کے بعد قانون ساز اسمبلی میں موجود پارلیمانی جماعتوں سمیت جملہ سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن منسوخ کردی گئی تھی جس کے بعد پارٹی رجسٹریشن کا سلسلہ شروع ہوا ۔
مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جے کے پی پی اور مسلم کانفرنس جو کہ اس وقت پارلیمانی سیاسی جماعتیں ہیں نے رجسٹریشن کرو الی اور تمام مطلوبہ شرائط پوری کیں ۔
بقیہ سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن نہایت سست روی کا شکار ہی کیونکہ اب پارٹی رجسٹریشن کے لیے الیکشن کمیشن کو 2لاکھ روپے نقد فیس جمع کروانے کے ساتھ پارٹی کی مجلس عاملہ اور مجلس شوریٰ اراکین سمیت مرکزی،ڈویژنل،ضلعی، تحصیل،حلقہ،سٹی وائز ممبران وعہدیداران کے 2ہزار عدد شناختی کارڈ کی مصدقہ فوٹو کاپیاں، بیان حلفی، اکاؤنٹس کی تفصیلات، آڈٹ رپورٹ ودیگرلوازمات اب ہر پارٹی کے لیے آسان نہیں رہا۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے رجسٹریشن کے لئے سخت قوانین کا نفاذ نہایت احسن اقدام ہے کیونکہ اس سے کئی جعلی اور فرضی اور ٹانگہ پارٹیاں الیکشن پراسس سے مکمل طور پر باہر ہو جائیں گی ۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر انتخابات 2026: الیکشن کمیشن نے انتخابی حلقوں کی فائنل لسٹ جاری کر دی
بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو اس میں نرمی کرنی چاہیے کیونکہ الیکشن لڑنا ہر ایک کا حق ہے اب جس جماعت کے پاس 2لاکھ روپے رجسٹریشن فیس نہیں ہے تو وہ الیکشن سے باہر ہو جائے گی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی پارٹی کے پا س 2لاکھ روپے نہیں ہے تو اس کے پاس کارکنان کی کم از کم دو ہزار تعداد ضرور ہونی چاہیے جیسا کہ الیکشن کمیشن نے 2000کارکنان کے شناختی کارڈ کی فوٹو کاپیاں طلب کی ہیں اگر کسی جماعت کے پاس 2ہزار کارکنان نہیں ہیں تو اسے الیکشن پراسس میں آنا ہی نہیں چاہیے۔




