ایرانی مندوب

ہمارے منصوبے امریکی صدر کو خوش کرنے کیلئے نہیں بنائے جاتے ،ایرانی خبر ایجنسی

ایرانی خبرایجنسی کے مطابق جنگ کےخاتمے سے متعلق امریکی تجویز پر ایران کے جواب پر امریکی صدر ٹرمپ کا ردعمل کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔

ایرانی خبرایجنسی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران میں منصوبے امریکی صدر کو خوش کرنے کیلئے نہیں بنائے جاتے، ٹرمپ ایران کے جواب سے خوش نہیں تو یہ ایران کے حق میں بہتر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کا جواب قابل قبول نہیں، ٹرمپ، دوبارہ حملوں کا بھی عندیہ دیدیا

اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ابھی ایران کے نام نہاد ’’نمائندوں‘‘ کی طرف سے دیا گیا جواب پڑھا ہے جو مجھے بالکل پسند نہیں آیا ، یہ مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔

قبل ازیں ایرانی سرکاری میڈیا‏کا کہنا ہے کہ امریکی تجاویز ٹرمپ کے حد سے زیادہ مطالبوں کے آگے ہتھیار ڈالنے کے مترادف تھی۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کا خلیج فارس میں غیر ملکی آئل ٹینکر تحویل میں لینے کا دعویٰ

ایرانی سرکاری میڈیا‏کے مطابق ایرانی تجاویز میں امریکا کو جنگی نقصانات کے معاوضے کی ادائیگی اور آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری پر زور دیا گیا۔

اس کے علاوہ ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ جواب کا اصل متن تھا کہ تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی کی جائے ، ایران پر مستقبل میں دوبارہ حملے نہ کرنے کی ضمانت مانگی گئی۔

ایرانی خبرایجنسی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے امریکا سے تیل برآمدات سمیت تمام پابندیاں ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:بیجنگ میں بڑی عالمی سفارتی بیٹھک: صدر شی جن پنگ کی ٹرمپ، پوٹن اور شہباز شریف سے اہم ملاقاتیں متوقع

ایران کی جانب سے معاہدے پر دستخط ہوتے ہی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کامطالبہ کیا گیا اور ایران نے جواب میں تمام منجمد اثاثے بحال کرنے کامطالبہ کیا ۔

‏ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جنگ کے خاتمے کی تجاویز پر امریکا کو بھجوا ئے گئے جواب میں یورینیم افزودگی عارضی طورپرروکنے پرآمادگی ظاہر کی ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق تاہم ایران نے امریکا کا 20 سال تک یورینیم افزودہ نہ کرنے کا مطالبہ مستردکردیا ہے ۔

امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ایران نے جنگ بندی اور آبنائے ہرمز مرحلہ وار کھولنے کی تجویز دی ہے جبکہ ساتھ ہی ایران نے امریکی پابندیاں اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: ایران،امریکہ مذاکرات آئندہ ہفتے اسلام آباد میں دوبارہ ہونے کا امکان

امریکی اخبار کے مطابق ایران نے جوہری معاملات پر آئندہ 30 روز میں مذاکرات کی تجویز دی ہے البتہ ایران نے جوہری تنصیبات ختم کرنے کا امریکی مطالبہ مسترد کر دیا۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری خبرایجنسی کے مطابق ایرانی سرکاری ذرائع نے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کو گمراہ کن قرار دے دیا۔ ایرانی سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ جوہری مواد سے متعلق امریکی اخبار کی رپورٹ کے اہم نکات غلط ہیں۔